بہار کے سیاسی حالات: امکانات اور مستقبل
ڈاکٹر مشتاق احمد
ریاست بہار کی سیاست ہمیشہ سے ہندوستانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ تاریخی، سماجی اور لسانی تنوع کے حامل اس خطے کی سیاسی حرکیات نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہیں ۔ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک بہار کی سیاست نے کئی اہم ادوار دیکھے ہیں ۔ کبھی سماجی انصاف کی تحریکیں غالب رہیں ، کبھی ترقی اور گورننس کے نعروں نے سیاسی بیانیہ کو تشکیل دیا، اور کبھی اتحاد و اختلاف کی سیاست نے پورے سیاسی منظر نامے کو بدل دیا۔ موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہار کی سیاست ایک بار پھر ایک نئے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد، اقتدار کی کشمکش اور عوامی مسائل سب ایک ساتھ زیر بحث ہیں ۔
بہار میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز سیاسی اتحاد اور ان کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ ریاست کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں سب سے اہم کردار وزیر اعلیٰ نتیش کمارکا ہے جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں میں بہار کی سیاست کو کئی مرتبہ نئی سمت دی ہے۔
اگر بہار کے عوامی مسائل پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کو اب بھی کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی وہ مسائل ہیں جو ہر حکومت کے لئے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں ۔ بہار ایک زرعی ریاست ہے جہاں کی بڑی آبادی کا انحصار کھیتی باڑی پر ہے، لیکن صنعتی ترقی کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار کے لئے دوسرے صوبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔روزگار کا مسئلہ بہار کی سیاست میں سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا موضوع ہے۔ ہر انتخابی مہم میں سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے وعدے کرتی ہیں ۔ تیجسوی یادو نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں دس لاکھ سرکاری ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا جس نے نوجوانوں میں ایک نئی امید پیدا کی۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے بھی مختلف شعبوں میں تقرریوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہار کے نوجوان اب بھی بہتر روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں ۔تعلیم کے میدان میں بھی بہار کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں اسکولوں اور کالجوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن معیارِ تعلیم کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات اٹھائے جاتے ہیں ۔ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی کمی، تحقیقی سرگرمیوں کی محدودیت اور تعلیمی ڈھانچے کی کمزوری جیسے مسائل اکثر زیر بحث آتے رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے طلبہ بڑی تعداد میں دہلی، بنگلور اور دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں ۔صحت کے شعبے کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی اور بڑے اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ایک اہم مسئلہ ہے۔
اس وقت بہار کی سیاست ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی باگ ڈور نتیش کمار کے ہاتھوں میں تھی لیکن اب وہ بہار کی سیاست کو چھوڑ کر مرکزی سیاست کا حصہ بننے جا رہے ہیں ۔ اگرچہ ان کی پارٹی کے لیڈران اور کارکن اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا کی رکنیت اختیار کریں لیکن اب سب فیصلہ ہو چکاہے۔ ظاہر ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد ہی یہ چہ می گوئیاں شروع ہوگئی تھیں کہ اب نتیش کمار بہار میں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر چند دنوں کے مہمان ہیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔ لیکن نتیش کمار اس وقت سیاست کے اس چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے ان کے مستقبل کے راستے محدود ہوتے نظر آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی کے اندر بھی اس فیصلے کے خلاف طوفان اٹھا ہوا ہے ۔بہر کیف اب سب کچھ طے ہو چکا ہے بس بی جے پی بہار کے وزیر اعلیٰ کے چہرے کا اعلان کرے گی اور دو دہائیوں کے بعد ہی سہی بی جے پی اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یوں تو گزشتہ کئی برسوں سے نتیش کمار کی جو ذہنی کیفیت رہی ہے یہ حقیقت عیاں ہے کہ حکومت بی جے پی ہی چلا رہی تھی۔لیکن نتیش کا چہرہ ان کے حامیوں کے لئے تسلی ضرور دے رہا تھا۔دراصل ایک طرف پرانی سیاسی روایتیں اب بھی موجود ہیں اور دوسری طرف نئی نسل کی قیادت اور نئے سیاسی بیانیے بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ نوجوان ووٹرز کی تعداد میں اضافہ اس تبدیلی کا ایک اہم عنصر ہے۔ یہ نوجوان صرف روایتی نعروں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ عملی ترقی اور روزگار کے مواقع بھی چاہتے ہیں ۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے بھی بہار کی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ اب سیاسی بیانیہ صرف جلسوں اور ریلیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی عوامی رائے تشکیل پاتی ہے۔ نوجوان نسل ان ذرائع کے ذریعے سیاست کو زیادہ قریب سے دیکھ رہی ہے اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کر رہی ہے۔اگر مستقبل کی بات کی جائے تو بہار کی سیاست کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے ۔ شاید نتیش کمار اس زمینی حقیقت سے آگاہ ہیں اور انہوں نے اپنے بیٹے نشانت کمار کے لئے یہی موقع غنیمت سمجھا ہے کہ بہار کی سیاست میں اسے داخل کر عملی طورپر مستحکم بھی کردیا جائے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی اتحاد اور اقتدار کی کشمکش کیا گل کھلاتی ہے لیکن عوام کی نظر میں اصل کامیابی اسی حکومت کو ملے گی جو روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ٹھوس نتائج دکھائے گی۔یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست کی سیاست میں استحکام پیدا ہو تاکہ ترقیاتی منصوبے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں ۔ بار بار اتحادوں کی تبدیلی سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے بلکہ سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے۔ نئی نسل سیاست سے زیادہ توقعات رکھتی ہے۔ اگر سیاسی قیادت ان توقعات کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو بہار نہ صرف سیاسی استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز بھی کر سکتا ہے۔یوں بہار کے سیاسی حالاتِ حاضرہ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیاست کا اصل مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ریاست کی ترقی ہونا چاہئے۔ اگر یہ اصول عملی سیاست کا حصہ بن جائے تو بہار کا مستقبل یقیناً زیادہ روشن ہو سکتا ہے۔نتیش کا بہار کی سیاست کو الوداع کہنا ان کی سیاسی مجبوری ہے اس حقیقت سے ریاست بہار کا بچہ بچہ آگاہ ہو چکا ہے لیکن اب نتیش کمار نے بی جے پی کیلئے دو دہائیوں میں ریاست کی زمین کو اس قدر زرخیز بنا دیاہے کہ اب اس کی فصل کا لہلہانا تو فطری عمل ہے۔





