طارق رحمٰن نے عوامی مفاد میں خارجہ پالیسی پر زور دیا
طارق رحمٰن نے عوام کے مفاد، خارجہ پالیسی، امن، قانون کی مضبوطی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر مکمل پابندی پر زور دیا۔
پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی نشستیں جیتنے کے بعد بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی کے صدر طارق رحمٰن نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں متعدد چیلنجز کا ذکر کیا۔طارق رحمٰن نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی بنگلادیش اور اس کی عوام کے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تیار کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے مفادات سب سے اہم ہیں اور حکومت ان کے تحفظ کو ہر فیصلے میں ترجیح دے گی۔ غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں طارق رحمٰن نے کہا، “ملک کی عوام کے مفادات سب سے اہم ہیں، اور ہم ان کے مفادات کو سنجیدگی سے مدِ نظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی طے کریں گے۔”
پریس کانفرنس میں موجود پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن امیر خسرو محمود چودہری نے کہا، “بنگلادیش کی خارجہ پالیسی کسی ایک ملک کے ساتھ وفاداری پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ یہ باہمی احترام، مساوات اور اعتماد پر قائم ہوگی۔”طارق رحمٰن نے کہا کہ وہ فاشسٹ دور کے چھوڑے گئے حالات میں ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک ایک نازک معیشت، غیر فعال آئینی اور قانونی اداروں، اور کمزور قانون و انتظامیہ کی صورتحال سے دوچار ہے، جس کا سامنا حکومت کو کرنا ہوگا۔انہوں نے بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ہر سطح پر ہوشیار اور پرامن رہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک بھر میں بی این پی کے تمام رہنما اور کارکن صبر و تحمل سے کام لیں اور ہوشیار رہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور کوئی بھی بری طاقت اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
طارق رحمٰن نے کہا کہ بنگلادیش میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے، مذہب، ذات یا دیگر اختلافات کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی بہانے سے کمزور افراد پر طاقتور افراد کا حملہ قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی اور آئینی اداروں کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کے ارکان کو بھی تاکید کی کہ وہ عوام کے مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کریں اور ملکی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
طارق رحمٰن نے زور دیا کہ ملک کی خارجہ پالیسی، داخلی اصلاحات، اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے تمام اقدامات عوامی مفاد میں کیے جائیں گے اور کسی بھی غیر قانونی یا طاقت کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بی این پی عوام کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور استحکام کی طرف قدم بڑھائے گی، اور ہر سطح پر شفافیت اور ذمہ داری کو ترجیح دی جائے گی۔
گا۔





