سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے ایف آئی آر پر ردعمل دیا
سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے ایف آئی آر کو ’ادارہ پر حملہ‘ قرار دیا، الزامات کی تردید کی، تحقیقات جاری۔
سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی، جو اتراکھنڈ کے جیوترمٹھ کے سربراہ ہیں، نے اتر پردیش میں اپنے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کے بعد حکومت اور انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق پوکسو قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے اس کارروائی کو ’ادارہ سنکر اچاریہ پر حملہ‘قرار دیا ہے۔پریاگ راج میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوشنکر اچاریہ حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ جو سوال اٹھاتے ہیں یا اختلاف کرتے ہیں، ان کے خلاف مقدمات قائم کر دیے جاتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ معاملہ ذاتی نہیں بلکہ ایک مذہبی ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے علاوہ ان کے شاگرد سوامی مکوندانند برہمچاری اور دو سے تین نامعلوم افراد کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ پریاگ راج کی پوکسو عدالت نے حال ہی میں جھونسی تھانے کے ایس ایچ او کو ہدایت دی تھی کہ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔اپنے دفاع میں سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کہا کہ ماغ میلے کے دوران جب وہ پریاگ راج میں دھرنے پر بیٹھے تھے تو وہاں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، لہٰذا اگر کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو اس کی ریکارڈنگ ضرور موجود ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن لڑکوں کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ کبھی ان کے گروکل میں زیرِ تعلیم نہیں رہے اور نہ ہی ان کا ادارے سے کوئی تعلق رہا ہے۔ ان کے بقول، جب کسی کا ادارے سے تعلق ہی ثابت نہیں ہوتا تو ایسے الزامات کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔
انہوں نے ایک مبینہ سی ڈی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواہوں کے ذریعے فضا کو خراب کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پولیس اور عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت کے حکم پر درج کیا گیا ہے اور تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی۔ اس پیش رفت کے بعد مذہبی اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور مختلف طبقات اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔





