سپریم کورٹ کا حکم، آوارہ کتے اور مویشی شاہراہوں سے ہٹاؤ
سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ آوارہ کتے اور مویشی سڑکوں سے ہٹا کر شیلٹر میں رکھے جائیں۔
بھارتیہ سپریم کورٹ نے آوارہ جانوروں سے متعلق ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شاہراہوں، سڑکوں اور ایکسپریس ویز سے آوارہ کتوں اور مویشیوں کو فوری طور پر ہٹا دیں۔ عدالت کی تین رکنی بینچ نے اپنے زبانی احکامات میں واضح کیا کہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے، بصورت دیگر ذمےدار سرکاری افسران کو ذاتی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومتیں ایسے تمام سرکاری و نجی اداروں کی نشاندہی کریں، جہاں عوام کی بڑی تعداد آتی ہےجیسے کہ اسپتال، تعلیمی ادارے، کھیل کے میدان، ریلوے اسٹیشن اور دیگر عوامی مقامات۔تاکہ انہیں اس طرح سے گھیر بند کیا جائے کہ آوارہ کتے ان میں داخل نہ ہو سکیں۔
بینچ نے مزید ہدایت دی کہ متعلقہ حکام ان اداروں کے احاطے میں موجود آوارہ کتوں کو فوری طور پر ہٹائیں، ان کی نس بندی (اسٹرلائزیشن) کرائیں اور بعد ازاں انہیں ڈاگ شیلٹرز میں منتقل کریں تاکہ ان کی مناسب دیکھ بھال کی جا سکے۔دورانِ سماعت کچھ وکلاء نے عدالت کے حکم پر تشویش ظاہر کی اور درخواست کی کہ اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔ تاہم بینچ نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سلامتی اور صفائی کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔اس سے قبل دو ججوں کی ایک بینچ نے دہلی اور این سی آر (نیشنل کیپیٹل ریجن) کے تمام آوارہ کتوں کو شیلٹر ہومز میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں ڈاگ لورز کی ایک درخواست پر تین ججوں کی بینچ نے ہدایت دی کہ جن کتوں کو پکڑا گیا ہے، انہیں اسی علاقے میں واپس چھوڑا جائے جہاں سے وہ پکڑے گئے تھے۔
البتہ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے کتے جنہیں ریبیز (کتے کے کاٹنے کی بیماری) ہے یا اس بیماری کا شبہ ہے، انہیں کسی صورت واپس نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ علاج کے لیے الگ رکھا جائے گا۔اس فیصلے کے بعد دہلی کے جنتر منتر پر کئی جانوروں کے حقوق کے علمبردار اور ڈاگ لورز جمع ہوئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے جانوروں کے ساتھ انسانی سلوک کو فروغ ملے گا، ساتھ ہی عوامی حفاظت کا بھی خیال رکھا جا سکے گا۔





