سپریم کورٹ نے پہلی بار پیسِو یوتھنیشیا کی اجازت دے دی
سپریم کورٹ نے پہلی بار پیسِو یوتھنیشیا کی اجازت دی، 32 سالہ کوما مریض کا لائف سپورٹ ہٹانے کی منظوری۔
سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ ’پیسِو یوتھنیشیا‘ یعنی خواہشِ موت کے قانونی حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ بدھ کے روز عدالت عالیہ نے 32 سالہ ایک شخص کے لئے لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دی، جو گزشتہ 12 سال سے کوما میں تھا۔ یہ فیصلہ نہ صرف طبی اور قانونی میدان میں سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ انسانی وقار اور اخلاقیات سے متعلق اہم سوالات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔جسٹس جے بی پارڈیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے اس طویل اور جذباتی معاملے پر غور و فکر کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مرکز سے درخواست کی ہے کہ پیسِو یوتھنیشیا کے حوالے سے ایک جامع قانون سازی پر غور کرے تاکہ مستقبل میں ایسے حساس معاملات میں واضح قانونی رہنما خطوط موجود ہوں۔ اس فیصلے کے مطابق ایمس دہلی کو بھی ہدایت دی گئی کہ لائف سپورٹ ہٹانے کے عمل کے لیے ایک خاص منصوبہ تیار کیا جائے، جس میں یہ یقینی بنایا جائے کہ پورے عمل کے دوران مریض کی عزت اور وقار برقرار رہے۔
پیسِو یوتھنیشیا وہ عمل ہے جس میں اگر کسی مریض کی حالت شدید ہو، وہ کوما میں ہے، اور اس کے ٹھیک ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، تو اس کے لائف سپورٹ سسٹم کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت مریض کو طبی آلات سے زندگی برقرار رکھنے کے بجائے قدرتی طور پر موت کی اجازت دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس عمل کا مقصد صرف غیر ضروری انسانی تکلیف کو کم کرنا اور مریض کی انسانی وقار کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ زندگی کو کم کرنا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ پیسِو یوتھنیشیا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے مناسب قانونی، طبی اور اخلاقی رہنما خطوط کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ لائف سپورٹ ہٹانے کی ہر درخواست کو مریض کے خاندان کی رضامندی، طبی ماہرین کی رپورٹ اور قانونی تصدیق کے بعد ہی منظور کیا جائے۔ اس فیصلے سے ملک میں زندگی کے آخری مراحل اور انسانی حقوق سے متعلق بحث میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ نہ صرف قانونی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے بلکہ یہ طبی اخلاقیات اور انسانی وقار کے نقطہ نظر سے بھی سنگ میل ہے۔ اس سے قبل، مریض کے لائف سپورٹ کو ہٹانے کے معاملے میں واضح قانونی راستہ موجود نہیں تھا اور ہر کیس الگ الگ عدالت میں مختلف فیصلوں کا محتاج ہوتا تھا۔ اب سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ایک معیاری اور منظم طریقہ کار قائم ہو سکے گا، جو مریض اور اس کے خاندان دونوں کے لیے تحفظ فراہم کرے گا۔





