ماہواری چھٹی پالیسی پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار
سپریم کورٹ نے ماہواری چھٹی پالیسی کی درخواست پر سماعت نہیں کی، حکام سے غور اور مشاورت کرنے کی ہدایت دی۔
بھارتیہ سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اس درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ طالبات اور خواتین ملازمین کو ماہواری کے دوران خصوصی چھٹی دینے کے لیے ایک باضابطہ پالیسی بنائی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں براہ راست عدالتی مداخلت مناسب نہیں اور اس طرح کے فیصلے پالیسی سازی کے دائرے میں آتے ہیں جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے غور کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر اس نوعیت کے لازمی قواعد بنائے جائیں تو اس کے بعض غیر متوقع نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے بعض آجر خواتین کو ملازمت دینے سے گریز کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں اضافی چھٹیوں کی ذمےداری اٹھانی پڑے گی۔ بنچ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں یہ خطرہ پیدا ہو سکتا ہے کہ خواتین کو ملازمت کے مواقع کم ملیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو اس انداز میں پیش کرنا کہ ماہواری خواتین کے لیے کوئی منفی یا کمزوری کی علامت ہے، مناسب نہیں۔ ججوں کے مطابق ایسی دلیلیں بعض اوقات غیر ارادی طور پر معاشرے میں موجود صنفی تعصبات کو مضبوط کر دیتی ہیں اور خواتین کے بارے میں غلط تصورات کو فروغ دے سکتی ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ماہواری ایک فطری اور حیاتیاتی عمل ہے اور اسے کسی منفی تناظر میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے پر مکمل طور پر دروازہ بند نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکومتی ادارے اور حکام اس تجویز پر غور کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف طبقات، ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد کسی ممکنہ پالیسی کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
بنچ نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو وہ اس مسئلے پر ایک جامع پالیسی تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے، جس میں خواتین کی صحت، کام کے ماحول اور اداروں کی عملی ضروریات سب کو مدنظر رکھا جائے۔ عدالت کے مطابق ایسا متوازن طریقہ کار ہی اس حساس موضوع پر بہتر اور پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ بعض سماجی اور انتظامی نوعیت کے معاملات میں عدالتیں براہ راست فیصلہ دینے کے بجائے حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو فیصلہ کرنے کا موقع دینا زیادہ مناسب سمجھتی ہیں۔





