سوڈان: فراموش کردہ تباہی …
ودود ساجد
ایڈیٹر: روزنامہ انقلاب
دو سال تک غزہ میں اسرائیل کی ظالمانہ جنگ کے دوران دنیا بھول ہی گئی کہ افریقی عرب ملک ’سوڈان‘ بھی ایک بڑی اور بھیانک خون آشامی کا شکار ہے۔ غزہ کی نئی تباہی اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی تھی لیکن سوڈان کی نئی تباہی تو اس سے بھی پہلے اپریل میں شروع ہوگئی تھی۔ یہ بھی ایک خوفناک حقیقت ہے کہ جو انسانی تباہی غزہ میں ہوئی ہے سوڈان میں شاید اس سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔
پھر کیا وجہ ہے کہ پوری دنیا اس طرف سے صرف نظر کئے ہوئے ہے؟ امریکہ‘ برطانیہ‘ یوروپ اور خود عالم عرب کہاں ہے؟ یہ اعداد و شمار بہت خوفناک ہیں کہ سوڈان کی تازہ خانہ جنگی میں محض دوسال میں پونے دو لاکھ انسانوں کو قتل کیا جاچکا ہے اور ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے سوڈان کے بحران کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران سے تعبیر کیا ہے۔
سوڈان کی خانہ جنگی کی تاریخ پرانی ہے اور ان کی تفصیلات بھی خاصی پیچیدہ ہیں۔ سوڈان اپنے معدنی وسائل کے اعتبار سے ایک بھرپور ملک ہے۔ اس کا رقبہ بھی اچھا خاصا بڑا ہے۔ لیکن مسئلہ وہی ہے جو دنیا کے اور بھی کئی ملکوں میں ہے۔ ایسا دنیا کے کئی خطوں میں ہوا ہے کہ اقتدار کے صدر مرکز سے دور‘ ان علاقوں کے مکینوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ اس کی مثال متحدہ بہار کے اس سابق خطہ سے دی جاسکتی ہے جسے اب الگ جھارکھنڈ ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس خطہ کے لوگوں کو شکایت تھی کہ بہار کی حکومتوں نے اس کے قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن اس کے مکینوں کو ان کے ثمرات سے محروم رکھا۔
سوڈان کے مغرب میں اس کا ایک خطہ ’دارفور‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے مکینوں کی اکثریت غیر عرب افریقی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں بھی سوڈان کی حکومتوں سے سیاسی‘ سماجی‘ ثقافتی اور اقتصادی محاذ پر امتیازی سلوک کی شکایت رہی ہے۔ اس علاقہ میں آبی ذخائر‘ زرعی صلاحیت‘ مویشیوں کی افزائش اور دوسرے معدنیات کے علاوہ سونے کی کانیں بھی پائی جاتی ہیں۔ 2003 میں ’دارفور‘ کا قضیہ اس وقت عالمی منظر نامہ پر آیا جب دارفور کے دو باغی گروپوں نے اس خطہ کے مکینوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف مظاہرے شروع کئے۔ سوڈان کی حکومت نے مظاہرین کو بزور طاقت کچلنا شروع کیا اور مظالم اتنے بڑھے کہ عالمی مشاہدین نے تصدیق کی کہ دارفور کے لوگ نسل کشی اور نسلی تطہیر کا شکار ہیں۔
سوڈان کے سابق حکمراں جنرل عمر البشیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ 1989 میں وہ ایک بغاوت کے ذریعہ سوڈان کے اقتدار پر قابض ہوئے تھے اور 30 سال تک حکمرانی کرتے رہے۔ 2003 میں جب ’دارفور‘ خطہ کے دو باغی گروپوں ’سوڈان لبریشن موومنٹ آرمی‘ اور ’تحریک برائے مساوات و انصاف‘ نے امتیازی سلوک کے خلاف سر اٹھایا تو جنرل عمر البشیر نے ان سے نپٹنے کیلئے عرب ملیشیا کو ہر طرح کی مادی اور عسکری مدد دے کر باغیوں سے زیادہ مضبوط کردیا۔ اس گروپ کا عربی نام ’جنجوید‘ رکھا گیا۔ یعنی ’گھوڑوں کی پشت پر سوار بدمعاشوں کا گروہ‘۔ عالمی مبصرین نے الزام لگایا کہ اس گروپ نے حکومت کے ساتھ مل کر فور‘ مسا لط اور زغوہ‘ علاقوں کی شہری آبادی کومنظم طور پر دو سال تک نشانہ بنایا۔ ہزاروں لوگوں کو قتل کیا گیا‘ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے پڑوسی افریقی عرب ملک ’چاڈ‘ میں جاکر پناہ لے لی۔ چاڈ کو عربی میں تشاد لکھا جاتا ہے۔
بہت سی رپورٹوں کے مطابق حکومت اور جنجوید نے مل کر درجنوں گائووں کو جلا دیا‘ کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا اور پانی کے کنووں میں زہر ملا دیا۔ یہ لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ جنگی ہتھیار کے طور پر خطہ کی کم عمر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے منظم واقعات کی بھی رپورٹیں آئیں۔ اس کے علاوہ حکومت اور ملیشیا نے عالمی تنظیموں کے ذریعہ آنے والی امداد کا راستہ روک کر خطہ میں بڑے پیمانے پر بھکمری اور انسانی تباہی کا ایک عظیم بحران کھڑا کردیا۔
2019 میں سوڈان میں ایک اور بغاوت ہوئی اور جنرل عمر البشیر کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ اس سے پہلے ان کے خلاف سڑکوں پر شدید مظاہرے ہوئے تھے۔ ان کے اقتدار بدر ہونے کے بعد بھی سوڈان کےشہری‘ جمہوریت کی بحالی کیلئے مظاہرے کرتے رہے۔ لہٰذا ایک مشترکہ فوجی اور سویلین حکومت وجود میں آگئی۔ لیکن 2021 میں ایک اور بغاوت ہوئی اور اس حکومت کا بھی خاتمہ کردیا گیا۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ یہ بغاوت اور حکومت کا یہ تختہ پلٹ جن دو ’جنرلوں‘ نے مشترکہ طور پر کیا تھا آج کی تازہ خوں ریزی ان دونوں کے ہی باہمی انتشارکے سبب ہورہی ہے۔ یہ جنرل برہان عبدالفتاح اور ان کے نائب جنرل محمد حمدان دقلو ہیں۔ جنرل برہان سوڈان کی مسلح فوج کے سربراہ اور عملاً ملک کے صدر ہیں اور جنرل دقلو ‘ جنجوید گروپ کے سربراہ ہیں۔ 2013 میں اس گروپ کا نام ’دعم السریع‘ یعنی برق رفتار مدد گروپ رکھ دیا گیا۔ ان دونوں کی باہمی چشمک کے سبب محض دوسال میں سوڈان کے پونے دو لاکھ
انسان قتل کردئے گئے اور ایک کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہوگئے۔
یہاں ایک اور پیچیدہ عنصر کو کچھ آسان کرکے سمجھنا
دلچسپی سے خالی نہیں۔ سوڈان کے مغرب میں دارفور کے باغی گروپوں کو کچلنے کیلئے جنرل عمر البشیر کے زمانہ میں حکومت سوڈان نے جس ’جنجوید‘ نامی گروپ کو مسلح کیا تھا وہ جنرل برہان کی مشترکہ فوجی اور سویلین حکومت کے خاتمہ کا سبب بن گیا۔ لہٰذا جنرل برہان نے ’جنجوید‘ یا ’ دعم السریع‘ گروپ کے ایک لاکھ جنگ جوئوں کو ملک کی مسلح آرمی میں ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اب مشکل یہ تھی کہ دونوں اقتدار اور اثر و روسوخ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ کیونکہ دونوں نے ہی ملک کے الگ الگ خطوں میں موجود قدرتی اور معدنی وسائل پر قبضہ کرکے لوٹ مار مچا رکھی تھی۔
جنجوید کو فوج میں ضم کرنے کے جنرل برہان کے فیصلہ کے خلاف جنرل دقلو نے ملک بھر میں اور خاص طور پر راجدھانی خرطوم میں اپنے مسلح گروپ کو از سرنو تعینات کردیا۔ کئی دنوں کی سخت کشیدگی کے بعد 15 اپریل 2023 کو دونوں گروپوں کے درمیان گولی باری کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ جنرل دقلو نے خرطوم پر قبضہ کرلیا لیکن دوسال کی سخت لڑائی اور خون خرابہ کے بعد مارچ 2025 میں جنرل برہان نے خرطوم کا قبضہ واپس لے لیا۔
اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں جنرلوں نے آخر کس وجہ سے ملک بھر میں تباہی اور افراتفری مچا رکھی ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں کی پشت پر کون سی طاقتیں کارفرما ہیں؟ فوجی قیادت کا الزام ہے کہ جنرل دقلو نے سوڈان کی کچھ سونے اور لوہے کی کانوں پر قبضہ کر رکھاہے۔ وہ متحدہ عرب امارات (یواے ای) کو سستے داموں پر سونا اور لوہا اسمگل کرتا ہے جو بدلہ میں اسے عسکری مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ان مسلح باغیوں کی مدد کیلئے سوڈان پر ڈرون سے حملہ بھی کرتا رہتا ہے۔ مشرقی لیبیا کے طاقتور جنرل خلیفہ ہفتار پر بھی الزام ہے کہ وہ بھی سوڈان کے ان باغیوں کی مدد کرتا ہے اور اس نے سوڈان میں لڑنے کیلئے اپنے جنگجوئوں کو بھیج رکھا ہے۔
اب خطرہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ سوڈان کی ایک بار پھر تقسیم ہوسکتی ہے۔ 2011 میں جنوبی سوڈان کی تقسیم ہوچکی ہے جب تیل کے بیشتر کنویں بھی راجدھانی خرطوم کے تصرف سے الگ ہوگئے تھے۔ دوسری طرف بتایا جاتا ہے کہ سوڈان کی فوج کو پڑوسی افریقی عرب ملک مصر مدد فراہم کرتا ہے۔ سوڈان کی سرحدیں مصر سے ملتی ہیں اور مصر کا دریائے نیل بھی سوڈان کی سرحدوں سے مل کر بہتا ہے۔ فوج کے جنرل برہان کی حکومت کو ہی اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے جس کا ہیڈ کوارٹر بحرالاحمر پر موجود سوڈان کی بندرگاہ پربنایا گیا ہے۔ باغی جنرل دقلو کے جنگجو اس ہیڈ کوارٹر پر بھی گاہے بگاہے ڈرون حملے کرتے رہتے ہیں۔
یہ ایک دلخراش حقیقت ہے کہ سوڈان میں مرنے والے بھی مسلمان ہیں اور مارنے والے بھی۔ حیرت یہ ہے کہ نسلی تطہیر کے محاذ پر عربوں کے غلبہ والے ملک میں غیر عربوں کے خلاف مہم جاری ہے۔ سونے اور لوہے کے بدلے میں متحدہ عرب امارات اور لیبیا کا جنرل ہفتار جنرل دقلو کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یعنی غیر عربوں کے قتل میں بالواسطہ طور پر عرب ملوث ہیں۔ مصر جیسا بڑا ملک بھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سوڈانی فوج اور اس کی حکومت کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یعنی متحدہ عرب امارات اور مصر دونوں اپنے لالچ اور مفادات کے تحفظ کی خاطر سوڈان میں قتل و غارت گری سے صرف نظر کر رہے ہیں۔
سوڈان سے بڑے پیمانے پر سعودی عرب وغیرہ کو مویشیوں کی برآمد ہوتی ہے‘ خود سعودی عرب سوڈان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرچکا ہے لیکن وہ اس سلسلہ میں لگتا ہے کہ غیر جانبدار بنا ہوا ہے۔ امریکہ کو یہاں مداخلت کرنے میں کوئی خاص مادی یا فوجی فائدہ نظر نہیں آتا۔ یوروپی ممالک افریقی ممالک کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ عالمی عدالت انصاف نے بھی باغیوں کو کمک پہنچانے کے الزام میں یو اے ای کے خلاف سوڈان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ تاہم سعودی عرب اور بحرین نے سوڈان میں قیام امن کیلئے متعدد مرتبہ مذاکرات منعقد کرائے مگر سب بے سود۔
سب سے بڑی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ سوڈان کی سیاہ فام آبادی عرب اور غیر عرب کے نام پر ایک دوسرے سے امتیازی سلوک کرتی رہی ہے۔ افریقی عرب ممالک کے پاس کوئی مضبوط مشترکہ پلیٹ فارم یا قیادت نہیں ہے۔ لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر القذافی نے چھوٹے بڑے افریقی ممالک کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کی مہم شروع کی تھی لیکن امریکہ کو وہ مہم پسند نہیں آئی۔ امریکہ کو خلیجی ممالک کی خاموش تائید نے بھی حوصلہ بخشا۔ یہی نہیں امریکہ نے تو خلیج کے طاقتور حکمراں صدام حسین کے عزائم کو بھی پسند نہیں کیا اور انہیں عالم عرب کا قائد بننے کی کوشش کی سزا دی گئی۔ عربوں نے وہاں بھی امریکہ کا ساتھ دیا۔
اسی سال نومبر میں جنرل دقلو کی باغی فوج ’دعم السریع‘ نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب اور مصر کی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی تجویز پر راضی ہوگئی ہے تاہم سوڈان کے فوجی قائد جنرل برہان نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا کہ دعم السریع جھوٹی ہے اور وہ کسی بھی جنگ بندی کا احترام نہیں کرتی۔۔ ایسے ملک میں جہاں دو کروڑ 40 لاکھ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں فوج اور باغی فوج کے یہ دو متصادم جنرل لوہے اور سونے کی کانوں پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لڑ رہے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے عرب ملک کبھی پاس آکر اور کبھی دور جاکر تماشے دیکھ رہے ہیں۔
اس تناظر میں درجنوں عالمی مبصرین نے یہ کتنا تکلیف دہ مگر درست نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’اسلامی اخوت ‘ طاقتور ملکی مفادات کے آگے اکثر کمزور پڑجاتی ہے‘۔ 19 ویں صدی کے الجزائر کے معروف مفکر مالک بن نبی نے ’امت اور ریاست‘ کے تضاد پر لکھا تھا کہ مسلمانوں کے زوال کیلئے صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی فکری و تہذیبی کمزوری ذمہ دار ہے۔ یہاں تک کہ متعدد افریقی اور عرب کالم نگار بھی کہتے رہے ہیں کہ ’ریاست امت سے پہلے ہے‘۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(رائٹر کے وال سے)





