وزیراعظم کی عدم حاضری پر اپوزیشن کا شدید ردعمل
اسپیکر کے بیان پر اپوزیشن برہم، وزیراعظم کی عدم موجودگی پر حکومت اور کانگریس میں شدید لفظی جنگ جاری۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے ایک بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم ایوان میں آتے تو اپوزیشن ارکان کی جانب سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا۔ ان کے اس بیان پر کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر کے بیان کو مکمل طور پر غلط بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کو نقصان پہنچانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیرِ اعظم اب اسپیکر کے پیچھے چھپ رہے ہیں اور گزشتہ روز ایوان میں آنے کی ہمت نہیں دکھا سکے۔پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے کا موقع کیوں نہیں دیتی۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن کسی ذریعے کا حوالہ دیتی ہے تو اسے روکنے کا کوئی آئینی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بحث اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ حکومت سنجیدہ گفتگو کے لیے تیار نہیں تھی۔
شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم ملک کے سب سے زیادہ محفوظ فرد ہیں، ایسے میں یہ کہنا کہ انہیں خواتین ارکانِ پارلیمنٹ سے خطرہ تھا، نہایت افسوسناک اور خواتین کی توہین کے مترادف ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے بیانات سے خواتین نمائندوں کے کردار پر بلاجواز سوال اٹھتا ہے۔اس سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ اسپیکر کے دفتر کی جانب سے میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کانگریس نے خواتین ارکان کے ذریعے وزیرِ اعظم پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی خاتون کی جانب سے احتجاج کرنا دہشت گردی سمجھا جائے گا؟ ان کے مطابق حکومت اور اس کی حمایت کرنے والے حلقوں کو ملک کی خواتین، خصوصاً دلت خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔یہ معاملہ اب سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر مزید بیان بازی دیکھنے کو ملے گی۔





