عید پر امن یقینی بنانے کے لیے دہلی پولیس کو سخت ہدایات
دہلی ہائی کورٹ نے عید پر پر امن ماحول کو یقینی بنانے، پولیس کو چوکس رہنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی روکنے کی ہدایت دی۔
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ عید کے موقع پر عوام کی روزمرہ زندگی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس ایسی مؤثر حکمتِ عملی اپنائے جس سے ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور کسی بھی طبقے کو ایسا کوئی عمل کرنے کی اجازت نہ دی جائے جس سے حالات کشیدہ ہوں۔یہ معاملہ اس وقت زیرِ سماعت آیا جب ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے دائر کی گئی ایک درخواست پر سماعت کی جا رہی تھی۔ درخواست میں ریاستی حکومت اور پولیس پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تناؤ کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہی ہیں۔ عدالت نے اس تناظر میں خاص طور پر پولیس کو مزید چوکنا رہنے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عید خوشی اور بھائی چارے کا تہوار ہے، اس لیے یہ سب کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ اس موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاست اور خاص طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہبی تہوار امن و سکون کے ساتھ منانے کا حق حاصل ہو۔عدالت نے 4 مارچ کو دہلی کے علاقے اتم نگر میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 26 سالہ نوجوان ترون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب ہولی کے دوران پانی سے بھرا غبارہ ایک پڑوسی خاتون پر جا گرا، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کے سلسلے میں اب تک 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ دو کم عمر لڑکوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ عدالت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اور بروقت اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر میں امن برقرار رکھا جا سکے اور عوام بلا خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکیں۔






