آسام کی سیاست میں طوفان: گورو گوگوئی پر پاکستانی ایجنٹ کا الزام
ہمنتا بسوا سرما نے غورو گوگوئی پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا، گورو نے کہا وزیراعلیٰ نااہل اور خوفزدہ ہیں۔
گوہاٹی: آسام کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ غورو گوگوئی پر ’’پاکستانی ایجنٹ‘‘ ہونے کا سنگین الزام عائد کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی ہے۔جمعہ کے روز ایک عوامی تقریب کے دوران وزیراعلیٰ سرما نے دعویٰ کیا کہ گورو گوگوئی کو ’’ملک کے اندر غیر ملکی طاقتوں کے مفاد کے لیے تیار کیا گیا‘‘ ہے۔ ان کے مطابق ’’میرے پاس اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ’’اگر غورو گوگوئی چاہیں تو میرے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔‘‘اس بیان کے بعد کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے سنیچر کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ رویہ واضح طور پر ان کی انتظامی نااہلی اور گھبراہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمنتا بسوا سرما نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ آسام کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے اہل نہیں۔‘‘
گورو گوگوئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’کل جب پورا آسام گلوکار جوبین گارگ کی آخری فلم روئی روئی بنالے دیکھنے میں مصروف تھا، تب وزیراعلیٰ کے بیانات ان کے اقتدار کھو دینے کے خوف کو ظاہر کر رہے تھے۔‘‘یاد رہے کہ حال ہی میں آسام حکومت نے پاکستانی شہری علی توقیر شیخ کے ساتھ گورو گوگوئی کے مبینہ تعلقات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ یہ ٹیم سی آئی ڈی کے خصوصی ڈائریکٹر جنرل منّا پرساد گپتا کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق، ایس آئی ٹی نے 10 ستمبر کو اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی تھی، تاہم اس رپورٹ کو نہ عوام کے سامنے لایا گیا اور نہ ہی اس پر کوئی عملی کارروائی کی گئی۔ نہ کسی گرفتاری ہوئی، نہ ہی کوئی باضابطہ الزام عائد کیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آسام میں حکمراں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی آنے والے انتخابات کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ایک جانب بی جے پی قیادت ملک دشمنی کے الزامات کے ذریعے اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب کانگریس اسے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی چال قرار دے رہی ہے۔گورو گوگوئی کا کہنا ہے کہ ’’اگر حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے عوام کے سامنے پیش کرے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے بیانات دراصل ان کے سیاسی خوف اور اختلافِ رائے سے عدم برداشت کی علامت ہیں۔آسام کے سیاسی منظرنامے میں یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا ہے جب ریاست میں اقتصادی بحران، روزگار کے مسائل اور مہنگائی جیسے موضوعات پر عوامی ناراضی بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے الزامات سے عوامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور سیاسی ماحول میں مزید تلخی پیدا ہوتی ہے۔





