کرناٹک سیاست میں ہلچل، شیوکمار پر قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئیں
کرناٹک میں سیاسی ہلچل جاری ہے؛ شیوکمار کی وزارتِ اعلیٰ کی قیاس آرائیاں، بی جے پی کا طنزیہ اے آئی ویڈیو اور کماراسوامی کے دعوے زیرِ بحث ہیں۔
کرناٹک کی سیاست ایک بار پھر گہما گہمی کا شکار ہے اور ریاست کی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔ اسی پس منظر میں نائب وزیرِ اعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے اپنی صفوں کے اندر پائی جانے والی قیاس آرائیوں پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں کسی قسم کی کوئی گروہ بندی موجود نہیں، اور نہ ہی کوئی ایسا رہنما ہے جو الگ سے کسی عہدے کی مانگ کر رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس ایک متحد جماعت ہے اور “ہمارے گروپ میں پورے 140 ارکانِ اسمبلی شامل ہیں”، اس لیے انتشار کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
ادھر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ متعدد کانگریس ایم ایل ایز نے خفیہ طور پر پارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو ریاست کی وزارتِ اعلیٰ سونپی جائے۔ ان خبروں نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور سوشل میڈیا پر یہ موضوع تیزی سے گردش کرنے لگا۔صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب کرناٹک بی جے پی کے ایکس (سابق ٹویٹر) اکاؤنٹ نے ایک طنزیہ نوعیت کی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو جاری کی۔ ویڈیو میں ڈی کے شیوکمار کو آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم پر “وزیرِ اعلیٰ کی کرسی” تلاش کرتے دکھایا گیا، مگر ہر بار اسکرین پر “آؤٹ آف اسٹاک” ظاہر ہوتا ہے۔ اس ویڈیو نے سیاسی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا اور دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان لفظی جنگ بھی چھڑ گئی۔
اسی ہنگامے کے درمیان ڈی کے شیوکمار نے ایکس پر پیغام جاری کیا کہ عوامی نمائندوں کو “اپنی اندرونی آواز اور اخلاقی ذمہ داری کے مطابق کام کرنا چاہیے۔” ان کے اس بیان کو مختلف معنوں میں لیا جا رہا ہے، اور سیاسی حلقے اسے جاری کشمکش کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔دوسری جانب گزشتہ دنوں این ڈی اے کی اتحادی جماعت جے ڈی ایس کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے ایک پراسرار سا بیان دیتے ہوئے ریاست میں “بڑے سیاسی دھماکے” کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ڈی کے شیوکمار بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔ اس بیان نے پوری سیاسی فضا کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے اور اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا واقعی کرناٹک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ہونے والی ہے یا نہیں۔





