خبرنامہ

بہار سیاست: اقتدار منتقلی، نتیش حکمت عملی اور نشانت کا امتحان

بہار میں اقتدار کی منتقلی کا عمل بتدریج آگے بڑھ رہا ہے، اور نتیش کمار ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کام آہستہ اور صبر کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ کیے گئے فیصلے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔ 2015 میں جب مختلف جماعتوں کو یکجا کرنے کی کوشش ہو رہی تھی، تو انہوں نے کبیر کا یہ مشہور دوہا بھی دہرایا تھا کہ ہر چیز اپنے وقت پر ہی بہتر طریقے سے مکمل ہوتی ہے۔اسی سال اسمبلی انتخابات کے دوران بھی وہ بار بار صبر اور تدریجی عمل کی بات کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، لیکن کام اپنے مقررہ وقت پر ہی مکمل ہوتا ہے، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
حال ہی میں اگرچہ انہوں نے وہی اشعار نہیں دہرائے، لیکن ان کا طرزِ عمل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی سے پہلے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس کے بعد جے ڈی یو کے اندر کچھ حلقوں میں ناراضی بھی دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ یہ ردعمل کھل کر سامنے نہیں آیا، لیکن اختلاف رائے ختم بھی نہیں ہوا۔
جنوری 2026 میں یہ واضح ہو گیا تھا کہ کے سی تیاگی کا پارٹی سے تعلق کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کی تجویز پیش کی تھی، جسے پارٹی نے ان کی ذاتی رائے قرار دیا۔ بعد میں خود تیاگی نے بھی یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے پارٹی کی رکنیت کی تجدید نہیں کرائی ہے، گویا وہ عملی طور پر الگ ہو چکے ہیں، حالانکہ انہوں نے باضابطہ استعفیٰ نہیں دیا۔تیاگی نے یہ بھی کہا کہ نتیش کمار کے ساتھ ان کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے اور انہوں نے مختلف سیاسی ادوار میں ساتھ کام کیا ہے۔ تاہم اب وہ اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں اور جلد اس کا اعلان کرنے والے ہیں۔
نتیش کمار کی سیاسی حکمت عملی میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ کبھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد، کبھی اس سے علیحدگی اور پھر واپسی یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ 2015 میں لالو یادو کے ساتھ اتحاد کر کے انہوں نے انتخابات جیتے، لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ بعد میں انہوں نے پھر رخ بدلا اور مختلف سیاسی اتحاد آزماتے رہے۔اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ خود کو ایک ایسے مرحلے پر پاتے ہیں جہاں نہ تو نئی غلطیوں کی گنجائش ہے اور نہ ہی پرانی غلطیوں کو درست کرنے کا زیادہ موقع۔
انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ نئی قیادت کو ان کی مکمل حمایت اور رہنمائی حاصل رہے گی۔ اس تناظر میں ان کے بیٹے نشانت کمار کا نام سامنے آ رہا ہے، جو سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔نشانت کمار کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی ماحول کو قریب سے دیکھ چکے ہیں، لیکن انہیں ابھی خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ پارٹی کے اندر اور عوام کے درمیان اپنی پہچان بنانا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر اس لیے کہ پارٹی کا بنیادی ووٹ بینک مخصوص سماجی طبقات پر مشتمل ہے۔ماہرین کے مطابق، اگر نشانت کمار پارٹی کارکنوں اور ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ آگے بڑھ سکتے ہیں، ورنہ ان کے لیے راستہ آسان نہیں ہوگا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر