ٹرمپ کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ
ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کے جوابی بیانات کے بعد سٹریٹ آف ہورمُز پر خام تیل کی قیمتیں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گئیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور سٹریٹ آف ہورمُز میں تیل کی ترسیل سے متعلق تنبیہوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ ان بیانات کے بعد خام تیل کی قیمتیں اچانک 88 فی بیرل تک گر گئیں، جبکہ ایک روز قبل یہ قیمتیں117 تک پہنچ چکی تھیں۔حال ہی میں برینٹ کروڈ آئل کا ایک بیرل 93 سے زائد کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران سٹریٹ آف ہورمُز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو روکنے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو اسے انتہائی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ امریکہ ایران پر پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا، اور ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو آسانی سے تباہ کیے جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس اقدام سے ایران کے لیے دوبارہ ایک مضبوط قوم بننا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تحریر میں زور دیا کہ ان کا مقصد کسی بھی ملک کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ یہ قدم ان تمام ممالک کے لیے ایک تحفہ ہے جو سٹریٹ آف ہورمُز کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، امید ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے مفید ثابت ہوگا۔دوسری جانب، ایرانی ریوولوشنری گارڈز نے بھی سختی کا عندیہ دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس خطے سے ایک قطرہ بھی تیل برآمد نہیں ہونے دیں گے۔ یہ خطہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا مرکز ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدہ صورتحال کے سبب سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے خدشات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام پر بھی نمایاں پڑ سکتے ہیں۔اس وقت عالمی سرمایہ کار اور تجارتی ادارے باخبر رہنے کے لیے مارکیٹ کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے پہلے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔





