خبرنامہ

یوجی سی کے نئے مساواتی قوانین سے جنرل کیٹیگری میں شدید ناراضگی

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے حالیہ نافذ کردہ نئے ضوابط نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان قوانین کے حق اور مخالفت میں شدید ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جنرل کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور والدین ان ضوابط کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے سخت اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’’مساوات‘‘ کے نام پر متعارف کرائے گئے یہ قوانین دراصل مساوی مواقع کے تصور کو کمزور کر رہے ہیں۔یو جی سی نے 13 جنوری کو ’’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضابطہ 2026‘‘ نافذ کیا، جس کا مقصد ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، اقتصادی طور پر کمزور طبقات، معذور افراد، طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت ہر یونیورسٹی اور کالج میں نو رکنی ایکویٹی کمیٹی تشکیل دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس کمیٹی میں ادارے کے سربراہ، تین پروفیسر، ایک غیر تدریسی ملازم، دو عام شہری، دو خصوصی طور پر نامزد طلبہ اور ایک کوآرڈینیٹر شامل ہوں گے۔ قواعد کے مطابق ان نو میں سے کم از کم پانچ نشستیں لازمی طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، خواتین اور معذور افراد کے لیے مخصوص ہوں گی۔ یہی نکتہ تنازع کی بنیادی وجہ بن گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں جنرل کیٹیگری کے لیے کوئی لازمی نمائندگی نہیں رکھی گئی، حالانکہ الزامات اور شکایات کا دائرہ اکثر اسی طبقے کی طرف جاتا ہے۔
یو جی سی کا موقف ہے کہ یہ ضوابط تعلیمی اداروں میں شمولیت، انصاف اور برابری کے ماحول کو مضبوط بنائیں گے۔ تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ قوانین اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ ایک طبقہ ہمیشہ مظلوم اور دوسرا ہمیشہ ظالم ہوتا ہے۔ جنرل کیٹیگری کے طلبہ اور اساتذہ کو خدشہ ہے کہ ان پر جھوٹی شکایات درج ہو سکتی ہیں، کیونکہ نئے ضوابط میں غلط یا بے بنیاد شکایت درج کرانے والوں کے لیے کسی سزا یا جرمانے کا ذکر نہیں۔یو جی سی کے مطابق یہ قوانین ذات پات پر مبنی امتیاز کی بڑھتی شکایات کے پیش نظر لائے گئے ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2019-20 میں 173 شکایات درج ہوئیں، جو 2023-24 میں بڑھ کر 378 ہو گئیں، یعنی پانچ برسوں میں 118 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم ناقدین اعداد و شمار کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں ہزار سے زائد یونیورسٹیاں اور 48 ہزار سے زیادہ کالجز ہیں، جہاں چار کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس تناظر میں شکایات کا تناسب نہایت کم بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امتیازی سلوک ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے، مگر طلبہ کی ذہنی صحت اس سے بھی بڑا بحران بنتی جا رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہزاروں طلبہ کی خودکشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیمی نظام میں دباؤ، خوف اور عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے ضوابط اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے کیمپس میں تقسیم اور تصادم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔اسی پس منظر میں یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے، جس کا اثر اب سیاسی سطح پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ لکھنؤ میں بی جے پی کے کئی عہدیداروں نے ان قوانین کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جب کہ نوئیڈا میں بی جے پی یووا مورچہ کے ایک لیڈر نے ان ضوابط کو جنرل کیٹیگری کے لیے ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا۔ بعض سینئر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف تبھی بامعنی ہوتا ہے جب وہ سب کے لیے یکساں اور غیر جانبدار ہو۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر