سبریمالا کیس: حکومت نے 2018 فیصلے پر نظرثانی مانگ لی
حکومت نے سپریم کورٹ سے سبریمالا 2018 فیصلے پر نظرثانی مانگی، خواتین کے داخلے اور آئینی نکات پر دوبارہ بحث جاری .
بھارتی حکومت نے منگل کے روز سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ سنہ 2018 میں سبریمالا مندر سے متعلق دیا گیا فیصلہ درست نہیں تھا اور اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ اس فیصلے کے تحت عدالت عظمیٰ نے کیرالہ کے مشہور سبریمالا مندر میں 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کے داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں اس معاملے پر بحث چھڑ گئی تھی۔اب اس معاملے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں ایک نو رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہی ہے، جس کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے ہیں۔ اس بینچ کے سامنے متعدد درخواستوں پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا سابقہ فیصلہ آئینی اصولوں کے مطابق تھا یا نہیں۔
سماعت کے دوران جج بی وی ناگرتنا نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خاتون کو ماہواری کے دوران چند دنوں کے لیے ناپاک یا اچھوت تصور کرنا ایک غیر منطقی اور امتیازی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک عورت کی حیثیت سے وہ اس بات کو قبول نہیں کر سکتیں کہ کسی کو مخصوص دنوں میں الگ تھلگ کر دیا جائے اور پھر چند دن بعد اسے دوبارہ قابل قبول سمجھا جائے۔دوسری جانب حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا کہ 2018 کے فیصلے میں ایک اہم تبصرہ قابل اعتراض ہے۔ اس تبصرے میں کہا گیا تھا کہ مخصوص عمر کی خواتین کو مندر میں داخلے سے روکنا دراصل ’چھوا چھوت‘کے زمرے میں آتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت کے فیصلے میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے بھی یہ رائے دی تھی کہ خواتین کو عمر یا حیض کی بنیاد پر عبادت گاہ میں داخلے سے روکنا نہ صرف امتیازی سلوک ہے بلکہ ان کی عزت نفس کے بھی خلاف ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر ملک میں مذہبی روایات، صنفی مساوات اور آئینی حقوق کے درمیان توازن کے سوال کو اجاگر کر رہا ہے، اور آئندہ فیصلہ اس بحث کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔





