بی ایم سی انتخابات سے قبل ایم وی اے میں بڑھتے سیاسی اختلافات
بی ایم سی انتخابات سے پہلے ایم وی اے میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، کانگریس نے ایم این ایس اتحاد مسترد کیا، اُدھو متحد اپوزیشن پر زور دے رہے ہیں۔
ممبئی کی میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات سے قبل مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے اندر سیاسی کھینچا تانی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اُدھو ٹھاکرے اس بات کے حامی ہیں کہ ان کی جماعت اپنے کزن اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے قائد راج ٹھاکرے کے ساتھ انتخابی سمجھوتہ کرے، لیکن کانگریس نے اس تجویز کو قطعی طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ راج ٹھاکرے کے ساتھ اتحاد اس کے بنیادی ووٹ بینک خصوصاً شمالی بھارتی اور اقلیتی ووٹروں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اُدھو ٹھاکرے اس وقت دہلی میں کانگریس قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تقسیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے فائدے میں جائے گی۔ تاہم کانگریس کی جانب سے تا حال سخت رویہ برقرار ہے، جس کے باعث ایم وی اے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔
جنوری 2026 کے انتخابات اُدھو کے سیاسی مستقبل کا اہم موڑ
بی ایم سی کے انتخابات جنوری 2026 میں متوقع ہیں اور یہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیے محض بلدیاتی الیکشن نہیں، بلکہ وجود کی بقا کا معاملہ بن چکے ہیں۔ 1995 سے یہ ادارہ شیوسینا کے زیر اثر رہا ہے، جس نے پارٹی کو سیاسی ساکھ کے ساتھ مالی طاقت بھی فراہم کی۔ تاہم 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ایم وی اے کی واضح شکست کے بعد اُدھو ٹھاکرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ‘ٹھاکرے برانڈ’ کو دوبارہ مستحکم کریں۔اُدھو اور راج ٹھاکرے کے درمیان قربتیں 2025 کے وسط سے بڑھنا شروع ہوئیں، جب دونوں نے ایک جلسے میں مشترکہ اسٹیج شیئر کیا اور ’’مرہٹی مانوس‘‘ کے مسئلے پر یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد یہ سیاسی گرمجوشی مزید واضح ہونے لگی۔
ٹھاکرے برادران کی ملاقاتیں اور کانگریس کا سخت مؤقف
ستمبر میں اُدھو ٹھاکرے نے راج ٹھاکرے کے دادر واقع گھر کا دورہ کیا جہاں بی ایم سی الائنس پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بعد ازاں ایم این ایس کے رہنما دنکر پاٹل نے ناسیِک کے بلدیاتی انتخابات میں ایم وی اے کے ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا، مگر کانگریس نے اسے تسلیم کرنے سے فوراً انکار کردیا۔کانگریس نے 15 نومبر کو صاف اعلان کیا کہ وہ بی ایم سی کی تمام 227 نشستوں پر اکیلے میدان میں اُترے گی۔ ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے اس سلسلے میں شرد پوار سے ملاقات بھی کی، مگر ایم این ایس کو اتحاد میں شامل کرنے پر اختلاف برقرار رہا۔
16 نومبر کو اُدھو ٹھاکرے نے کہا کہ “کانگریس اپنے فیصلے لے سکتی ہے، ہم بھی اپنا لیں گے۔” تاہم اُن کے قریبی ساتھیوں نے ورشا گائیکواڑ سے ملاقات کرکے ایم وی اے کو متحد رکھنے کی درخواست کی۔ اُدھو کا مؤقف ہے کہ اگر اپوزیشن تقسیم ہوگئی تو اس کا براہِ راست فائدہ بی جے پی کو ملے گا، اور اس صورتحال میں دونوں جماعتیں نقصان اٹھائیں گی۔ انہی وجوہات کے باعث وہ متحدہ محاذ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔





