آر بی آئی نے مہنگائی میں سونا۔چاندی شامل، ریپو ریٹ برقرار رکھا
آر بی آئی نے مہنگائی میں سونا اور چاندی شامل کی، ریپو ریٹ برقرار رکھا، قرضوں کی قسطیں نہیں بڑھیں گی۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنی تازہ مانیٹری پالیسی میٹنگ کے بعد اہم اعداد و شمار اور فیصلوں کا اعلان کیا ہے، جس میں ایک ایسا قدم بھی شامل ہے جس نے معاشی حلقوں کی خاص توجہ حاصل کی۔ مرکزی بینک نے ریپو ریٹ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ افراطِ زر (مہنگائی) کی پیمائش کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سونے اور چاندی کی قیمتوں کو بھی مہنگائی کی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جائے گا۔اب تک عام طور پر مہنگائی کی بات کرتے وقت اشیائے خورد و نوش، خصوصاً سبزیوں جیسے آلو، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ عرصے میں قیمتی دھاتوں، بالخصوص سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث آر بی آئی نے انہیں بھی افراطِ زر کے تجزیے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ملک کے اندر طلب میں اضافے کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتیں معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔
مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ قیمتی دھاتوں کو افراطِ زر کے مانیٹری فریم ورک میں شامل کرنے سے مہنگائی کی حقیقی تصویر سامنے لانے میں مدد ملے گی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اگر سونے اور چاندی کو مہنگائی کے حساب سے الگ کر دیا جائے تو دسمبر میں افراطِ زر کی شرح تقریباً 2.6 فیصد رہتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دھاتوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجموعی مہنگائی کو اوپر لے جا رہی ہیں۔جہاں تک عام صارفین کا تعلق ہے تو اس فیصلے کے فوری طور پر سونے یا چاندی کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ ہونے کا امکان نہیں، تاہم پالیسی سازی میں سہولت ضرور پیدا ہوگی۔ اس دوران مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 1.53 لاکھ روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی، جب کہ چاندی کی قیمت میں کچھ کمی دیکھی گئی اور یہ تقریباً 2.40 لاکھ روپے فی کلوگرام کے آس پاس ٹریڈ کر رہی ہے۔
مانیٹری پالیسی کے تحت ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ گورنر سنجے ملہوترا کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ ریپو ریٹ سے منسلک ہوم لون، کار لون یا دیگر قرضوں کی ماہانہ قسطوں میں فی الحال کوئی اضافہ نہیں ہوگا، جس سے قرض لینے والوں کو وقتی ریلیف ملے گا۔





