راہل گاندھی کا مودی پر سخت وار، معاہدہ متنازع قرار
راہل گاندھی نے مودی پر تجارتی معاہدے، شفافیت اور کاروباری تعلقات پر الزامات عائد کیے، حکومت نے جوابی تنقید کی۔
راہل گاندھی نے وزیرِاعظم نریندرمودی کی حالیہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے بیان میں الزام لگایا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے میں قومی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ملک کا ڈیٹا بیرونی قوتوں کے حوالے کیا گیا، کسانوں کے مفادات متاثر ہوئے اور ٹیکسٹائل صنعت کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہوں نے اسے’باعثِ شرم‘اقدام قرار دیا۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کچھ بین الاقوامی مقدمات اور دستاویزات میں وزیرِاعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں کے ناموں کا ذکر سامنے آنا تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاملات حکومت کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور عوام کو سچ جاننے کا حق ہے۔
انہوں نے کاروباری شخصیات کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ امریکہ میں جاری قانونی کارروائیوں کے اثرات ملکی سیاست اور معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مقدمات حکمران جماعت کے مالی ڈھانچے سے جڑے معاملات کو نمایاں کر رہے ہیں، جس سے حکومت دباؤ میں ہے۔کانگریس رہنما نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے اور کسی دباؤ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا کردار حکومت سے سوال کرنا اور عوام کے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔
دوسری جانب وزیرِاعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ایک تقریب کے دوران کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں تھا اور اپوزیشن کو قومی معاملات میں ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پرانی سیاسی جماعتوں کو تنقید کے بجائے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ملکی سیاست میں اس بیان بازی کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا ہے اور دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔





