پوتن کاٹرمپ کے بورڈآف پیس میں شمولیت کاارشارہ،عالمی سیاست میں ہلچل
پوتن نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے اور منجمد روسی اثاثوں سے ایک ارب ڈالر دینے کا عندیہ دے دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے نہ صرف اپنی شرکت کی خواہش ظاہر کی بلکہ اس بورڈ کے لیے ممکنہ مالی تعاون کے بارے میں بھی کھل کر بات کی ہے۔روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر پوتن کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ روس کے دیرینہ اور خصوصی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ امن کے اس فورم کے لیے ایک ارب ڈالر تک کا تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم اُن روسی اثاثوں سے دی جا سکتی ہے جنہیں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں ضبط کر لیا گیا تھا۔ پوتن نے واضح کیا کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے روس کی بیرونِ ملک موجود متعدد جائیدادیں اور مالی اثاثے منجمد کیے گئے تھے اور وہ انہی وسائل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔صدر پوتن نے مزید کہا کہ باقی فنڈز کو جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر امریکی نمائندوں کے ساتھ ابتدائی بات چیت جاری ہے اور روس کسی بھی سنجیدہ امن کوشش کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان تمام امور پر فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ساتھ امریکی نمائندوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سے بھی گفتگو ہوگی۔ پوتن کے مطابق یہ امریکی نمائندے یوکرین سے متعلق مذاکرات کے سلسلے میں جلد ہی ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں، جس سے سفارتی رابطوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ولادیمیر پوتن کو ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بورڈ میں زیادہ سے زیادہ بااثر ممالک اور رہنماؤں کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایسے تمام افراد اور ممالک اس عمل کا حصہ بنیں جن کے پاس اختیار اور اثر و رسوخ موجود ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بورڈ میں شامل کچھ شخصیات متنازع بھی ہو سکتی ہیں، مگر ان کے بقول یہی وہ لوگ ہیں جو فیصلے کرنے اور عملی نتائج سامنے لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر روس واقعی اس اقدام میں شامل ہوتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں ایک نئی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین دونوں تنازعات پر پڑنے کا امکان ہے۔





