یک روزہ قومی سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
چوپڑا کالج میں مرحوم ماسٹر عبد الواحد مخلص پر یک روزہ قومی سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر،
ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ کی مرتب کردہ کتاب کی رونمائی۔
چوپڑا کالج، چوپڑا، ضلع اتر دیناج پور، مغربی بنگال میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے مالی تعاون سے “مرحوم ماسٹر عبد الواحد مخلص: حیات و خدمات” کے عنوان پر منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار آج بتاریخ 28 مارچ، 2026ء، بروز سنیچر صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک بہ حسن و خوبی انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس علمی و ادبی تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت ڈاکٹر علیم الدین شاہ کی مرتب کردہ اہم کتاب’’بنگالی ہندوؤں کی اردو خدمات‘‘کی ڈاکٹر کفیل احمد نسیم، ڈاکٹر درخشاں زریں، ڈاکٹر سجاد عالم رضوی اور دیگر معزز مہمانوں کے ہاتھوں رسمِ رونمائی بھی رہی، جسے اہلِ علم نے بے حد سراہا۔
تقریب کا آغاز مدعو مقالہ نگاروں کی گل پوشی سے ہوا، جنہیں گلدستے پیش کرکے عزت و تکریم سے نوازا گیا۔ اس کے بعد مرحوم ماسٹر عبد الواحد مخلص کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جس میں نثار احمد نثار دیناج پوری، شہباز مظلوم پردیسی اور منا مشتاق نے اپنے کلام کے ذریعے مرحوم کی خدمات کو یاد کیا۔
افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر مدھو سودھن کرمکار (پرنسپل، چوپڑا کالج) اور ڈاکٹر سجاد عالم رضوی (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ تاریخ، پریسیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا) نے کلیدی خطبے پیش کیے۔ ڈاکٹر مدھو سودھن نے اپنے خطاب میں اردو زبان کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصاً ماسٹر عبد الواحد مخلص کی اردو کے فروغ کے لیے خدمات کو انگریزی زبان میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جبکہ ڈاکٹر سجاد عالم رضوی نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی زبان کی ترقی ریاست، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے باشعور افراد کے باہمی اشتراک سے ممکن ہوتی ہے، اور یہی اصول اردو کے فروغ پر بھی صادق آتا ہے، جس کی جھلک مخلص مرحوم کی تحریروں میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد مقالہ خوانی کا پہلا علمی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر کفیل احمد نسیم (سنٹرل یونیورسٹی آف ساؤتھ، گیا، بہار) نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ (صدر شعبۂ اردو، چوپڑا کالج) نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر عزیر احمد (اسلام پور کالج)، ڈاکٹر ہارون رشید (دال کولا کالج)، ماسٹر طارق عزیز علیگ، ڈاکٹر صالحہ پروین، جناب دل نواز انجم (مالک، شاہین پریس، کشن گنج)، ڈاکٹر اقلیمہ خاتون (عالیہ یونیورسٹی، آن لائن) اور ڈاکٹر شہنواز عالم (اسلام پور کالج) نے اپنے وقیع و بیش قیمت مقالات پیش کیے۔
مقالہ نگاروں نے مرحوم مخلص کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی، خصوصاً اردو زبان کے فروغ میں ان کی گرانقدر خدمات، ان کی افسانہ نگاری اور اردو تحریکوں سے ان کی وابستگی کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر مفتی فیروز عالم مصباحی نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے اور مخلص مرحوم کی علمی و ادبی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ کو مبارکبادی دی۔

پہلے اجلاس کے بعد دوسرا علمی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر درخشاں زریں (ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا) نے کی جبکہ نظامت کے فرائض محمد شہباز عالم (صدر شعبۂ عربی، سیتل کوچی کالج، کوچ بہار) نے انجام دیے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر محبوب عالم، ڈاکٹر ارشاد شفق، ڈاکٹر طیب فرقانی، ڈاکٹر ابو وقاص، افتخار الحق صادق (ریسرچ اسکالر، عالیہ یونیورسٹی) اور جناب قیصر عالم نے اپنے علمی مقالات پیش کیے۔ ان مقالات میں مخلص مرحوم کی افسانہ نگاری کا نسائی اور تانیثی تناظر میں جائزہ لیا گیا، نیز بعض مقررین نے ان سے وابستہ ذاتی یادوں کو تازہ کیا جبکہ بعض نے بطور شاگرد ان کی تدریسی خدمات کو بھر پور خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس کے دوران مرحوم کے برادران جناب عبد الباسط آتش اور جناب ناصر حسین کو ڈاکٹر درخشاں زریں کے ہاتھوں مومنٹو پیش کیے گئے، جو ایک جذباتی اور یادگار لمحہ ثابت ہوا۔صدارتی خطاب میں ڈاکٹر درخشاں زریں نے تمام مقالات کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے مقالہ نگاروں کی علمی کاوشوں کو سراہا اور انہیں تبریکات پیش کیں۔
دو علمی اجلاسوں کے بعد تاثراتی نشست منعقد ہوئی جس میں مسرور عالم (صدر، رضا کمیٹی) اور ماسٹر افتخار صدا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مخلص مرحوم کی ہمہ جہت شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس اہم سیمینار کے انعقاد پر ڈاکٹر علیم الدین شاہ کی کاوشوں کو سراہا ۔

آخر میں ڈاکٹر گوبردھن ادھیکاری (آئی کیو اے سی کوآرڈینیٹر، چوپڑا کالج) نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دو اہم تجاویز بھی پیش کیں: پہلی یہ کہ مرحوم ماسٹر عبد الواحد مخلص کے نام سے یادگاری خطبات کا مستقل سلسلہ شروع کیا جائے، اور دوسری یہ کہ ان کی اردو نگارشات کو دیگر زبانوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کے افکار سے وسیع حلقہ مستفید ہو سکے۔
اس کامیاب سیمینار کے انعقاد پر ڈاکٹر محمد علیم الدین شاہ کو تمام مہمانوں اور شرکاء نے بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکبادی پیش کی۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات، علاقائی دانشوران و افراد بشمول ڈاکٹر شہباز عالم، ڈاکٹر توصیف بسواس (اسسٹنٹ پروفیسر، جادوپور یونیورسٹی)، ڈاکٹر شہزاد شمس اور ماجد میاں اسسٹنٹ پروفیسر دال کولا کالج، اتر دیناج پور کے علاوہ چوپڑا کالج کے تدریسی و غیر تدریسی عملے نے بھر پور شرکت کی۔
یہ سیمینار علمی سنجیدگی، ادبی وقار اور علمی و تحقیقی معیار کے اعتبار سے نہایت کامیاب ثابت ہوا اور مرحوم ماسٹر عبد الواحد مخلص کی اردو خدمات کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔





