پرینکا گاندھی کی تنقید، حکومت کا نیا ایپ فیصلہ متنازع
حکومت کا سنجار ساتھی ایپ لازمی، کانگریس نے اسے نگرانی قرار دیا؛ رازداری خدشات اور پارلیمانی تنازع میں اضافہ۔
مرکزی حکومت کی جانب سے “سنجار ساتھی” نامی موبائل ایپ سے متعلق نئے حکم نامے نے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ ایپ بظاہر ایک عام سہولت کے طور پر متعارف کرائی جا رہی ہے لیکن ان کے مطابق اس کا مقصد نگرانی بڑھانا ہے۔پرینکا گاندھی نے سخت الفاظ میں کہا کہ “یہ عملاً ایک جاسوسی ایپ ہے۔ سچ یہ ہے کہ یہ سب مضحکہ خیز لگتا ہے۔ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ نجی طور پر بات چیت کر سکے، بغیر اس خوف کے کہ اس کی سرگرمیوں پر حکومت کی نظر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت گفتگو اور بحث سے بھاگ رہی ہے، اسی لیے پارلیمنٹ کا ماحول جمود کا شکار ہے۔ ان کے مطابق حکومت کسی بھی حساس یا عوامی نوعیت کے مسئلے پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے، جس کے باعث پارلیمانی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارت سرکار کے محکمۂ دورسچاربندی (DoT) نے اس ہفتے موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ مارچ 2026 کے بعد فروخت ہونے والے تمام نئے اسمارٹ فونز میں “سنجار ساتھی” ایپ کو لازمی طور پر پہلے سے نصب رکھیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ایپ کا بنیادی مقصد موبائل فونز میں استعمال ہونے والے IMEI نمبرز کی درستگی اور تصدیق کو یقینی بنانا ہے تاکہ جعلی یا کلون شدہ ڈیوائسز کی خرید و فروخت روکی جا سکے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام صارفین کے تحفظ، موبائل فراڈ کی روک تھام اور ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس کے غلط استعمال کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور نجی رازداری کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی ایپ کو لازمی قرار دینا شہری آزادیوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب نجی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں۔پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے حکومت کی اس روش کا حصہ ہیں جس کے تحت اختیارات کو غیر معمولی حد تک مرکزی سطح پر مرتکز کیا جا رہا ہے، اور یہی طرزِ عمل ملک کو آہستہ آہستہ “جمہوریت سے دور” لے جا رہا ہے۔





