خالدہ ضیا کے انتقال پر وزیر اعظم مودی اظہارِ افسوس
بھارت کے وزیر اعظم مودی نے خالدہ ضیا کے انتقال پر دکھ، خدمات اور بھارت بنگلہ دیش تعلقات یاد کیے۔
بنگلہ دیش کی سابق اور پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے انتقال کو نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا سیاسی اور تاریخی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ بیگم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں منگل کی صبح تقریباً چھ بجے انتقال کر گئیں، جس کے بعد مختلف ممالک کی قیادت کی جانب سے تعزیتی پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کی خبر سن کر انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندوستان کی ہمدردیاں خالدہ ضیا کے خاندان اور بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ ہیں۔ وزیرِ اعظم مودی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے اہلِ خانہ کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔
اپنے بیان میں نریندر مودی نے بیگم خالدہ ضیا کی سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بطور بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم انہوں نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا نے اپنے دورِ اقتدار میں نہ صرف بنگلہ دیش کے اندر سیاسی اور سماجی ترقی کے لیے کام کیا بلکہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔وزیرِ اعظم مودی نے 2015 میں ڈھاکہ میں خالدہ ضیا سے ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک یادگار لمحہ تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بیگم خالدہ ضیا کا سیاسی وژن، تجربہ اور وراثت آئندہ بھی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گی۔
بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک مضبوط اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک جمہوریت، کثیر الجماعتی نظام اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے انتقال پر بنگلہ دیش میں سوگ کی فضا ہے جبکہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی سیاسی خدمات اور جدوجہد کو بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔






