امن معاہدہ بھی‘ نسل کشی بھی
ودود ساجد
فلسطین اور اسرائیل سے متعلق آنے والی خبروں‘ امریکہ اور عرب ممالک کے درمیان جاری مختلف پیش رفتوں اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جاری سرگرمیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو کوئی ایک سیدھی اور مثبت تصویر نہیں بنتی۔ البتہ اقوام متحدہ سے ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ہندوستان کے مقبول ترین ججوں میں سے ایک اور اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر ایس مرلی دھر کو اقوام متحدہ کے اس سہ رکنی تحقیقاتی کمیشن کا چیرمین مقرر کیا گیا ہے جو 13 اپریل 2021 سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے مظالم کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اب اس کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نرم و گرم کوششوں سے طے پانے والا’ جنگ بندی معاہدہ‘ کس حال میں ہے اس کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 49 دنوں میں اسرائیل نے غزہ میں 500 مرتبہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا۔ اس کی رو سے اسرائیل کے باقی ماندہ تمام زندہ یرغمالوں اور مردہ اسرائیلیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالہ کردیا گیا اور اسرائیل کی جیلوں سے دو ہزار سے زائد فلسطینی رہا ہوگئے۔ لیکن معاہدہ کے مطابق غزہ کے لٹے پٹے عوام کے خلاف اسرائیل کے جو حملے رکنے تھے وہ نہیں رکے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر سے 29 نومبر کی شام تک 390 فلسطینیوں کو بمباری‘گولی باری اور تشدد کے ذریعہ شہید کردیا گیا۔ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ مرنے والوں اور زخمیوں میں 70 بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ دولتمند عرب ممالک کی دولت دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ پچھلے دنوں اقوام متحدہ نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے ’امن منصوبہ‘ کو بھی منظور کرلیا ہے۔ لیکن اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کی روشنی میں حماس اور فلسطینی گروپوں نے اس منصوبہ کو فلسطینیوں کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کی پہلی ہی شق ’فوری جنگ بندی‘ کا اعلان کرتی ہے لیکن جنگ بندی ہونے کے باوجود یکطرفہ طور پر اسرائیل کی قتل و غارت گری جاری ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مغربی کنارہ میں ان دو فلسطینی شہریوں تک کو گولی ماکر ہلاک کردیا گیا ہے جنہوں نے اسرائیلی بارڈر پولیس کے انتباہ کے بعد خود کو پولیس کے حوالہ کردیا تھا۔ ایسے میں سمجھ میں نہیں آتا کہ جنگ بندی کی کیا معنویت رہ گئی ہے۔
نئے منظر نامہ میں اہل فلسطین کہیں نظر نہیں آتے۔ لیکن اس لٹی پٹی قوم کے نام پر سیاست‘ سفارت اور تجارت کرنے والے لیڈر‘ گروہ اور ممالک ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی یرغمالوں کو حوالہ کرنے کے بعد اب حماس بھی منظر نامہ پر کہیں نہیں ہے۔ اہل غزہ کی عملاً نمائندگی حماس ہی کر تی رہی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کے دوسرے حصے‘ مغربی کنارہ کی حکمراں جماعت ’فتح‘ بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ اسرائیل ‘ امریکہ اور ان کے حلیف ممالک چاہتے ہیں کہ حماس فوری طور پر غیر مسلح ہوجائے اور ’فتح‘ کے صدر محمود عباس زور لگا رہے ہیں کہ غزہ کی تعمیر نو اور نئی انتظامی کمیٹی میں انہیں بھی شامل کرلیا جائے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے جہاں ہر قیمت پر حماس کو غیر مسلح کرنے کا عزم کر رکھا ہے وہیں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو بھی وہ کوئی کردار سونپنے کو تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کار کے دوران 15 ستمبر 2020 کو اسرائیل اور مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے جو ’معاہدہ ابراہیمی‘ کرایا تھا اس میں وہ سعودی عرب کو شامل کرنے کیلئے دن رات تگ و دوکر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا مسلسل موقف یہ ہے کہ اسرائیل سے مراسم کی استواری ‘مکمل اور علاحدہ ریاست فلسطین کے قیام سے مشروط ہے۔ لیکن اب اس موقف کی عملاً کوئی معنویت نہیں رہ گئی ہے۔ نتن یاہونے اب تک اس سلسلہ میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی لیکن اب اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات قائم ہوں یا نہ ہوں‘ الگ ریاست فلسطین کے قیام کا اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہذا اب اہم سوال یہی ہے کہ پھر اسرائیل کو مجبور کرنے کیلئے دنیا کے پاس کیا باقی رہ گیاہے؟
گزشتہ 18 نومبر کو امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا شاندار استقبال کیا۔ اس دورہ میں بہت سے اقتصادی ‘ تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ جب 13 مئی کو ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو محمد بن سلمان نے امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب چھ مہینے کے بعد 18 نومبر کو محمد بن سلمان نے واشنگٹن کے دورہ کے دوران اس سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے اسے ایک ہزار بلین ڈالر کردیا ہے۔ محمد بن سلمان کیلئے اس دورہ کی ایک بڑی حصولیابی یہ ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتے ہوئے اسے ایف 35 جنگی جہاز دینے کا محض اشارہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز سعودی عرب کو دئے گئے تو ان کی تعداد 48 ہوگی۔ مشرق وسطی میں یہ جنگی جہاز امریکہ نے صرف اسرائیل کو دے رکھے ہیں۔ انہی کے سہارے وہ فلسطین کو برباد کرتا رہا ہے اور ایران سمیت مشرق وسطی کے تمام ممالک کو ڈراتا رہا ہے۔
دفاعی اعتبار سے یہ جنگی طیارے سعودی عرب کیلئے بہت اہم ہوں گے لیکن کیا ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال اسرائیل کے خلاف کیا جاسکے گا؟۔ بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تب بھی یہ طیارے سعودی عرب تک کئی برس کے بعد ہی پہنچ سکیں گے۔ امریکہ کے دفاعی قانون کے مطابق ایف 35 جنگی طیارے خطہ میں اگر کسی دوسرے ملک کو دئے جائیں گے تو وہ اسرائیل کو دئے گئے طیاروں سے کم صلاحیت کے ہوں گے۔ یعنی دفاعی برتری ہر حال میں صرف اسرائیل کو حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سودے کو منظور نہ کرے۔
اقوام متحدہ میں غزہ کے لیے ٹرمپ کے جس امن منصوبہ کو منظور کیا گیا ہے بہت سے عالمی مبصرین اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ خود حماس نے بھی اسے نامنظور کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قضیہ فلسطین کا مستقل اور باعزت حل نہیں ہے۔ اس وقت اسرائیل فلسطین کے قضیہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردینے کے ہمہ جہت منصوبہ پر کام کر رہا ہے۔ ایک طرف اس نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ الگ ریاست فلسطین کا باب ہمیشہ کیلئے بند کردے وہیں دوسری طرف وہ فلسطینیوں کو مختلف حیلے بہانوں سے جہازوں میں بھر بھر کر مختلف ملکوں اور خاص طور پر جنوبی افریقہ میں بھیج رہا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ رپورٹ چشم کشا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اب تک تین جہازوں میں بھر کر فلسطینیوں کو جنوبی افریقہ کے کئی ملکوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں لہذا فلسطین میں ان کی واپسی کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں سینکڑوں فلسطینی خاندانوں کو محصور کردیا گیا ہے اور ٹرمپ کے امن منصوبہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی فورس ’یلو لائن‘ پار کرکے کافی اندر تک گھس آئی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی غزہ میں بھی اسرائیلی فورس ’یلو لائن‘کے پار کرکے 300 میٹر اندر گھس آئی ہے۔ اس طرح اسرائیلی فورسز نے آدھے سے زیادہ ساحلی خطہ پر کنٹرول کرلیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شمالی اور مشرقی غزہ کی سرحدوں پر بسے ہوئے ان فلسطینیوں کے احوال کا کچھ علم نہیں ہو پارہا ہے کیونکہ اسرائیلی فورسز وہاں تک کسی کو جانے نہیں دے رہی ہیں۔
الجزیرہ کی خاتون صحافی ’ہند خدری‘ نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فورسز کو بعض مقامات پر نئے سرے سے ’یلو لائن‘ کے بلاک رکھتے ہوئے دیکھا گیا لیکن ہر جگہ نشاندہی نہیں کی گئی ہے لہذا بہت سے فلسطینی شہریوں کو نہیں معلوم کہ ’یلو لائن‘ کہاں کہاں ہے۔ بہت سے فلسطینی جو صبح کو کام پر نکلے تھے اب اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پارہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی اور وسطی غزہ میں ان مقامات پر بھی ہوائی حملے کئے ہیں جہاں جنگ بندی معاہدہ کے مطابق انہیں داخل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ایمنسٹی کے سیکریٹری جنرل ’آگنس کال مارڈ‘ نے کہا ہے کہ اس امرکا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدہ پر سنجیدگی سے عمل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اپنی پرانی روش قائم رکھے ہوئے ہے۔ وہ حملے بھی کر رہا ہے اور فلسطینیوں کیلئے آنے والی عالمی امداد کو بھی روک رہا ہے۔ دنیا کو بے وقوف نہیں بننا چاہئے‘ اسرائیل کی طرف سے نسل کشی جاری ہے‘‘۔
ادھر فلسطینی سرحدوں سے متصل یہودی آباد کار بھی فلسطینیوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بات بار بار دوہرائی جانی چاہئے کہ یہودی آبادکاروں کو (جو فی الواقع نرے غنڈے اور شرپسند ہیں) اسرائیلی حکومت نے لائسنس یافتہ خطرناک ہتھیار دے رکھے ہیں۔ وہ رہ رہ کر فلسطین کے دیہی علاقوں میں گھس جاتے ہیں اور پرتشدد لڑائی کے بعد ان کے مویشی کھول کرلے جاتے ہیں‘ان کی کھیتیاں اجاڑ دیتے ہیں اور بسا اوقات ان کی زرعی زمینوں پر قبضے کرلیتے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ ان شرپسند آباد کار یہودیوں سے ہتھیار واپس لئے جائیں‘ یہاں تک کہ اسرائیل کی ہائی کورٹ بھی متعدد واقعات میں حکومت اسرائیل کو وارننگ دے چکی ہے کہ وہ شرپسند آبادکاروں کو فلسطینیوں پر مسلح حملوں سے باز رکھے۔
ایسے میں یہ سوال منہ پھاڑے ہوئے کھڑا ہے کہ پھر اسرائیل کے ہاتھ پکڑنے اور مظلوم فلسطینیوں کو نسل کشی سے بچانے کا کیا راستہ ہے؟ اب بہت سے عالمی مبصرین اس سلسلہ میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو 1973کے واقعہ کی یاد دلارہے ہیں جب شاہ فیصل نے امریکہ کی دھمکیوں کے باوجود ان ممالک کو تیل کی سپلائی روک دی تھی جو اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں میں اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے۔خود 2008 میں شاہ فیصل کے بیٹے پرنس ترکی الفیصل نے بھی ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی سعودی عرب پر حملے کی دھمکی کے باوجود ان کے والد نے تیل کی سپلائی روکنے کی اپنی دھمکی پر عمل کرکے دکھا دیا تھا۔
فلسطین کی مادی مدد کرنے والوں میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کا پورا زور اس پر ہے کہ سعودی عرب کسی طرح اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرلے۔ سعودی عرب کا مسلسل موقف بھی یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر اسرائیل سے مراسم کا کوئی سوال نہیں۔ اب سعودی عرب کو اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ پھر اہل فلسطین کی نسل کشی کو کس طرح روکا جاسکے گا۔ فلسطین کے متعدد گروپ اقوام عالم سے اور خاص طور پر عرب ممالک سے بار بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ اسرائیل پر چند پابندیاں فوری طور پر نافذ کی جائیں۔
ہمارا خیال ہے کہ اگر سعودی عرب آج بھی شاہ فیصل کی طرح کا کوئی فیصلہ کرلے تو اسرائیل اور اس کے حواریوں کو قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عرب دنیا کی رگ حمیت مزید کتنے ہزار یا کتنے لاکھ فلسطینیوں کا قتل ہونے کے بعد پھڑکتی ہے۔۔۔





