اوباما کا نسل پرستانہ ویڈیو پر سخت ردِعمل سامنے آیا
اوباما نے نسل پرستانہ ویڈیو پر شدید ردِعمل دیا، ٹرمپ کی پوسٹ تنقید کا سبب بنی، عدالتی تحقیقات نے دعوے مسترد کیے۔
باراک اوباما نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں اس متنازع ویڈیو پر ردِعمل دیا ہے جسے موجودہ امریکی صدرٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک ایسا منظر شامل تھا جس میں اوباما اور ان کی اہلیہ کو توہین آمیز انداز میں پیش کیا گیا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ یہ ویڈیو ایک معروف گیت ’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘ کی دھن پر تیار کی گئی تھی اور اسے ایک بڑے سیاسی پیغام کے ساتھ نشر کیا گیا۔ ویڈیو کے آخری حصے میں ایک ترمیم شدہ کلپ شامل تھا جس میں اوباما اور سابق خاتونِ اول کو نسل پرستانہ انداز میں دکھایا گیا۔ اس مواد کو نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ ریپبلکن پارٹی کے بعض سینیئر اراکین نے بھی نامناسب اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے کو غیر ضروری تنازع قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس پر ہونے والا ردِعمل بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعد ازاں وضاحت دی گئی کہ متنازع حصہ ایک عملے کے رکن کی جانب سے شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد ویڈیو کو ہٹا دیا گیا۔ اوباما نے لبرل خیالات رکھنے والے پوڈکاسٹر برائن ٹائلر کوہن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے لیے جو شرم و حیا اور شائستگی کبھی رہنما اصول سمجھے جاتے تھے، وہ اب کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی زندگی میں ایک حد اور ذمہ داری ہونی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشرہ پہلے ہی تقسیم کا شکار ہو۔ ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کے بے بنیاد دعوے بھی دہرائے گئے تھے، جنہیں متعدد عدالتی اور سرکاری تحقیقات پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔ اس تناظر میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد نہ صرف سیاسی ماحول کو کشیدہ کرتا ہے بلکہ نسلی حساسیت کے زخموں کو بھی تازہ کرتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ویڈیو کا وہ حصہ نہیں دیکھا جس میں اوباما کو دکھایا گیا تھا، اور معافی سے متعلق سوال پر ان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ اپنی گفتگو میں اوباما نے براہِ راست کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ اب بھی ایسے امریکیوں سے ملتے ہیں جو شائستگی، برداشت اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی اقدار جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہیں اور انہیں برقرار رکھنا سب کی ذمے داری ہے۔





