خبرنامہ

امریکی ٹیکس سے بھارت کا تجارتی تعلق اور مارکیٹ دباؤ میں

اگر امریکہ بھارت پر 500 فیصد ٹیکس لگائے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ ایک طرح سے اقتصادی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اتنا زیادہ ٹیکس عام حالات میں عملی طور پر ناممکن ہے، لیکن اگر موجودہ انتظامیہ ایسا سخت فیصلہ کرتی ہے تو بھارت کی برآمدات پر گہرا اثر پڑے گا۔بھارت اور امریکہ اس وقت بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت نے امریکہ کو تقریباً 86.51 بلین ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں، جو پچھلے سال کی نسبت تقریباً 11.6 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی دوران امریکہ سے بھارت کی درآمد تقریباً 45.33 بلین ڈالر رہی۔ بھارت کی برآمدات میں آئی ٹی خدمات، دوا ساز مصنوعات، ٹیکسٹائل، جواہرات، آٹو پارٹس، اسٹیل اور کیمیکل شامل ہیں۔ اگر ان مصنوعات پر 500 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تو امریکی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی پروڈکٹ 100 روپے کی ہے اور موجودہ 50 فیصد ٹیکس کے ساتھ امریکہ برآمد کی جاتی ہے تو اس کی قیمت 150 روپے ہو جاتی ہے۔ لیکن 500 فیصد ٹیکس کے بعد وہی پروڈکٹ امریکی مارکیٹ میں 600 روپے کی ہو جائے گی، جس کی وجہ سے امریکی خریدار اسے خریدنا ترک کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، آرڈرز منسوخ ہو سکتے ہیں اور برآمدات کم ہو جائیں گی، جس سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ اور زر مبادلہ آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔اس کا سب سے زیادہ اثر مینو فیکچرنگ اور چھوٹے و درمیانے صنعتکاروں (MSME) پر پڑے گا، جو امریکی مارکیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ پروڈکشن میں کمی، خام مال کی خریداری میں کمی، اور روزگار کے مواقع میں کمی متوقع ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ٹیکسٹائل، لیدر، جواہرات اور دیگر برآمدی شعبوں کو ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹاک مارکیٹ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، آئی ٹی اور فارما اسٹاک متاثر ہو سکتے ہیں، اور سرمایہ کار خطرے سے بچنے کے لیے سرمایہ نکال سکتے ہیں۔ برآمدات میں کمی سے روپے کی قدر کم ہو سکتی ہے، اور درآمد مہنگی ہونے سے افراط زر بڑھ سکتا ہے۔ سرمایہ کار سونے اور چاندی کی طرف رجحان بڑھا سکتے ہیں۔یہ ٹیکس کی دھمکی خاص طور پر ان ممالک کے لیے ہے جو روس سے توانائی کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس کا مقصد روس کی معیشت پر دباؤ ڈالنا اور اسے یوکرین کے مسئلے پر مذاکرات پر مجبور کرنا بتایا جا رہا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر