نیٹو کا شدید انتباہ: روس اگلے پانچ سال میں حملہ کر سکتا ہے
نیٹو سربراہ مارک روٹے نے خبردار کیا کہ روس اگلے پانچ سال میں کسی بھی نیٹو ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔
مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ روس اگلے پانچ سال کے دوران کسی بھی نیٹو رکن ملک پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے روکنے کے لیے اتحاد کو پہلے سے زیادہ محتاط اور تیار رہنا ہوگا۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک اہم تقریر میں، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ روس پہلے ہی مخفی اور ہائبرڈ جنگ کی سرگرمیوں کے ذریعے مغربی ممالک کے خلاف اپنی حکمت عملی بڑھا رہا ہے۔روٹے نے واضح کیا کہ یوکرین کی حمایت صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ یورپی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس اپنی مرضی منوانے میں کامیاب ہو جاتا تو یوکرین روسی قبضے میں ہوتا اور نیٹو کے ساتھ طویل سرحد پر دباؤ میں اضافہ ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کی حالیہ یقین دہانیاں، جس میں وہ یورپ کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، حقیقت میں مخلصانہ نہیں ہیں اور گذشتہ برسوں کے روسی حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔
مارک روٹے کی وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس کی معیشت تین سال سے جاری جنگ کی حالت میں ہے اور اس کی فیکٹریاں مسلسل میزائل، توپ، ڈرون اور دیگر ہتھیار تیار کر رہی ہیں۔ کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے مطابق، روس ہر ماہ تقریباً 150 ٹینک، 550 انفنٹری لڑاکا گاڑیاں، 120 لینسیٹ ڈرونز اور 50 سے زیادہ توپیں تیار کرتا ہے۔نیٹو کے رہنما نے زور دیا کہ مغربی ممالک کو اپنی فوجی تیاری اور دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے 30 یورپی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ بھی اتحاد کے سب سے مضبوط فوجی رکن ہیں اور ان پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی افواج کی استعداد بڑھائیں۔
سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ موجودہ بحران میں سائبر حملے، غلط معلومات اور نیٹو کے فوجی اڈوں کے قریب ڈرون حملے بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ اقدامات روس کی ممکنہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے مقابلے میں کم تشویشناک ہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ دفاعی تیاری اور ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی لائی جائے تاکہ نیٹو ممالک کسی بھی خطرے سے بخوبی نمٹ سکیں۔نیٹو کے سربراہ کا پیغام واضح تھا: روس کی بڑھتی فوجی طاقت اور ہائبرڈ جنگ کی سرگرمیوں کے پیشِ نظر اتحادی ممالک کو زیادہ مستعد اور مضبوط دفاعی نظام کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔





