خبرنامہ

بہار میں مسلم پھیری فروش کا قتل، ہجومی تشدد پر 11 افراد گرفتار

بھارت کی ریاست بہار کے ضلع نوادہ میں پیش آنے والا ایک دردناک واقعہ ایک بار پھر اقلیتوں کے تحفظ اور ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کے مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔ نوادہ کے روہ تھانہ علاقے میں ایک مسلمان پھیری فروش محمد اطہر حسین کو مبینہ طور پر ہجوم نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور کئی دن تک اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد 12 دسمبر کو ان کی موت واقع ہو گئی۔پولیس کے مطابق محمد اطہر کو 5 دسمبر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس معاملے میں مارپیٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم متاثرہ شخص کی موت کے بعد پولیس نے اسے قتل کے مقدمے میں تبدیل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ روہ تھانہ کے انچارج رنجن کمار کے مطابق اس معاملے میں اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
محمد اطہر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پھیری لگا کر کپڑے اور دیگر سامان فروخت کرتے تھے اور اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے تین چھوٹے بچے ہیں، جن کا مستقبل اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اطہر کے بھائی چاند میاں نے بتایا کہ تشدد کے دوران ان سے نام پوچھا گیا اور مذہبی شناخت ظاہر ہونے کے بعد مارپیٹ میں مزید شدت آ گئی۔ ان کے مطابق اطہر نے اسپتال میں دورانِ علاج بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف ان پر تشدد کیا بلکہ ان کی جیب سے رقم اور سامان بھی چھین لیا۔اہلِ خانہ کی جانب سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں زخمی حالت میں محمد اطہر یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ ان کے ساتھ انتہائی سفاکی برتی گئی۔ ان کے بقول، انہیں مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور غیر انسانی سلوک کیا گیا۔واقعے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنما اور کارکنان متاثرہ خاندان سے ملنے پہنچے اور مدد کی یقین دہانی کرائی، لیکن تاحال سرکاری سطح پر کسی قسم کی مالی یا عملی امداد سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ واقعہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہجومی تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں اکثر اقلیتی طبقات کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پر مؤثر روک تھام کے بجائے بعض اوقات شدت پسند عناصر کو بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت ملتی دکھائی دیتی ہے، جس سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں محمد اطہر کا معاملہ صرف ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ایک بڑے سماجی اور انسانی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے، جس پر سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر