مودی سرکار کی خارجہ پالیسی: متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
ڈاکٹر سلیم خان
راہل گاندھی کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر وزیر اعظم نریندر مودی ایوان زیرین میں اپنا بجھا بجھا سا خطاب ٹھونک دیا۔ اس پر حزب اختلاف نےبحث کا مطالبہ کیا تو مودی سرکار نے کل جماعتی نشست کے ذریعہ اس کو ٹال دیا۔ وہاں پر بھی حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے پہلے سے طے شدہ کیرالہ کے دورے کی وجہ سے معذرت کی تو وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت کا امکان بڑھ گیا تھا مگرموصوف بیماری کے سبب نہیں آسکے۔ ملک کی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آخر ان کے چہیتے وزیر اعظم کون سی ایسی بیماری لاحق ہے جو تقریر کے وقت چلی جاتی ہے اور بحث مباحثے کے موقع لوٹ آتی ہے کیونکہ کل جماعتی نشست کے بعد پھر سے وزیر اعظم نے آن لائن تمام وزرائے اعلیٰ سے خطاب کیا اور ان کی طبیعت اس تقریر کے وقت بھی ٹھیک ہوچکی تھی ۔ ایسے میں اگر شیوسینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت یہ قیاس کرتے ہیں کہ وزیر اعظم ڈپریشن میں ہیں اور اب ان کے لیے ملک چلانا مشکل ہورہا ہے تو اس میں کیا غلط ہے؟ جنگ کے ابتداء میں ہی سنجے راوت کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا اس لیے انہوں برملا کہا تھا کہ پی ایم مودی کو اپنے دوستوں کو کہنا چاہیے کہ بہت ہو چکا ہے اور اس جنگ کو روکنا چاہیے۔
سنجے راوت نے مودی جی کو آئینہ دکھاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رُکوا سکتے ہیں تو مودی اتنے بڑے لیڈر ہیں، وہ وشوگروہیں۔ اس لیے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ رکوانا چاہیے کیونکہ تاریخ میں ایسا لیڈر نہ آج تک پیدا ہوا ہے اور نہ آگے پیدا ہوگا۔ایران سے روایتی تعلقات اور آیت خامہ ای کی تعریف و توصیف کرکے سنجے راوت نے کہا تھا ان کی شہادت پر ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم کی طرف سے رنج وغم کااظہار اور تعزیت ہونا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا آپ کس سے ڈررہے ہیں؟ آپ اسرائیل سے ڈررہے ہیں یا ٹرمپ سے؟ انہوں نے سوال کیا تھا کہ تعزیت کا اظہار کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟ راہل گاندھی نے غالباً اسی جانب اشارہ کرکے کہا تھا کہ اس مسئلے پر بحث تو ضروری ہے ، لیکن حکومت پہلے ہی سنگین غلطی کر چکی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ نظام کا ڈھانچہ ہی کمزور کر دیا گیا ہے اور اسے بہتر کرنے میں کافی وقت لگے گا۔
راہل گاندھی بولے وزیراعظم نریندر مودی آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ میں کام کرتے ہیں اور کسانوں و نوجوانوں کے مفاد میں موثر اقدامات نہیں کر پا رہے ہیں۔یہ دراصل مایوسی کا اظہار ہے۔ راہل گاندھی نے بلا تکلف کہا تھا کہ ’’آج ملک کی خارجہ پالیسی کمپرومائزڈ ہے، کیونکہ پی ایم مودی خود کمپرومائزڈ ہیں۔ مودی صرف وہی کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل ان سے کروانا چاہتے ہیں۔ مودی کبھی بھی ہندوستان کے مفاد کے فیصلے لے ہی نہیں سکتے، اور یہ صاف نظر آ رہا ہے۔‘‘ اس تناظر میں انتظار بسیار کے بعد مودی سرکار نےجس کل جماعتی نشست کا اہتمام کیا اور اس میں سے یہ بات نکل کر آئی کہ ’ہم‘ یعنی مودی سرکار کیا نہیں ہے؟ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ ا نکشاف تو کیا کہ ہم دلال نہیں ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ ’وہ کیا ہیں؟‘ راہل کے جواب سے ظاہر ہے کہ مودی سرکار کی ناعاقبت اندیشی نے ہمیں ایک فروخت شدہ مال بنادیا ہے ۔ اس لیے عالمی سطح پر ہماری کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی نے جو حالات پیدا کیے ہیں اس پر مجروح سلطانپوری کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
کانگریس میں ہوتے ہوئے بھی بی جے پی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے رکن پارلیمان ششی تھرورکو بھی اس کا قلق ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’میں گذشتہ تین ہفتے سے حکومت سے کہہ رہا ہوں وہ دونوں فریقوں سے اپنے قریبی تعلقات کو بروئے کار لا کر امن کے لیے بات چیت شروع کرانے میں پہل قدمی کرے۔ پاکستان، مصر اور ترکی نے قدم آگے بڑھایا، ان کے لیے نیک خواہشات۔ ہم سبھی امن چاہتے ہیں۔ پاکستان اب امن مذاکرات کی ثالثی کرنے والا ہے۔ ہندوستان نے یہ موقع کھو دیا۔‘معروف مبصر برہم چیلانی کے مطابق پاکستانی ثالثی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ’جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے 15 نکاتی پلان کو پاکستان کے توسط سے ایران کو بھیج کر صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو ایک ناگزیر ثالث بنا دیا ہے۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’تہران تک پہنچنے کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا واشنگٹن کے ثالث کے طور پر ابھرنا ناصرف پاکستان کی سیاسی اور علاقائی اہمیت کا عکاس ہے بلکہ یہ صدر ٹرمپ کے اس جملے سے سے بھی مطابقت رکھتا ہے کہ منیر ان کے سب سے پسندیدہ فوجی جنرل ہیں۔‘
مذکورہ بالا حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے وزیر خارجہ جے شنکر کی یہ دعویٰ کہ ’’(ہندوستان) دوسرے ممالک کا پیچھا کرتے ہوئے(نہیں) پوچھتا ہے کہ کیا اس کی خدمات کی ضرورت ہے۔‘‘ یہی منطق تو ٹرمپ پر صادق آتی ہے کہ اس کو کس نے کہا تھا کہ جنگ رکوائے؟ گودی میڈیا کے مطابق اگر پاکستان روتا گڑ گڑاتا گہار لگا رہا تھا تو ٹرمپ ہم سے پوچھے بغیر اس پر راضی کیسے ہوگئے اور ہمیں جنگ روکنے کا حکم کیوں دے دیا؟ یہ ساری دلالی غلط تھی تو مودی جی نے ان احکامات کی تعمیل ارشاد کیوں کی؟ ان تلخ سوالات کا جواب معلوم کرنا ضروری ہے ۔ جے شنکر صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسئلہ پاکستان کے پوچھنے کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کوئی ان کی فالج زدہ خارجہ پالیسی کے سبب ہندوستان کو نہیں پوچھ کرنہیں دیتا اس لیے دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کا وقت آگیا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان نے اپنی گردن شتر مرغ کی مانند ریت میں نہیں چھپا ئی ۔ امریکی ناراضی کی پروا کیے بغیر شہباز شریف نے ایرانی رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔انہوں نےاپنے بیان میں کہاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایران کے غم اور دکھ کے اس موقع پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیاکہ یہ ایک قدیم اصول ہے کہ سربراہان مملکت کو ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔
جنرل عاصم منیرنے اپنےاظہار عقیدت میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے میرا بہت اچھا تعلق تھا۔ ان سے تین مر تبہ ملاقات ہوئی، خامنہ ای مجھ سے پیار کرتے تھے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بذاتِ خود ایرانی سفارتخانے پر جاکر اپنی تعزیت رقم بند کی ۔ اس کے برعکس وطن عزیز میں کیا ہوا؟ وزیر اعظم ہنوز خاموش ہیں اور اجیت ڈوبھال نہ جانے کہاں کھوئے ہوے ہیں ؟ پاکستان کو دلال کا لقب دینے والے وزیر خارجہ جے شنکر بیگم خالدہ ضیا کی تدفین میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش تو چلے گئے لیکن دہلی کے ایرانی سفارتخانے میں وکرم مصری کو روانہ کردیا ۔ ایسے میں دوسروں پر نزلہ اتارنے سے بات نہیں بنتی ۔ دلال تو پھر بھی مال و اسباب کی خریدو فروخت میں معاون و مددگار ہوتا ہے اور اگر یہ دلالی جنگ کو بند کروانے اور امن کے قیام کی خاطر ہوتو اس میں تضحیک و تحقیر نہیں اعزاز کی بات ہے۔دہلی میں کل جماعتی نشست کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کوئی لائحۂ عمل تجویز کرنے کی خاطر نہیں بلکہ ایران میں جاری جنگ کے باعث ملک میں پیدا ہونے والے ایندھن اور انسانی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تھا ۔ اس سنگین صورتحال کو وزیر اعظم نریندر مودی کورونا کے حالات سے متشابہ کہہ چکے ہیں ۔
کل جماعتی نشست میں پی ایم مودی اور ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے بارے میں پوچھے جانے پر، جے شنکر نے شرکائے مجلس کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ سے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو کیونکہ اس سے سب متاثر ہو رہے ہیں۔” اب وزیر اعظم نریندر مودی نے جس کام کی ضرورت پر زور دیا وہی کام پاکستان کررہا ہو تو اسے تضحیک آمیز انداز میں دلالی کہہ دینا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ جے شنکر کے غیر سفارتی تبصرے نے پاکستان کو اسے ان کے اضطراب اور بے چینی کاا ظہا ربتا کر مسترد کرنے کا موقع دے دیا ۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تمام فریقین کے ساتھ فعال سفارتی رابطے میں ہےاور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانےکے لیے خلوص نیت کے ساتھ پل کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس بناء پر پاکستان کو دلال کہنے والے وزیر اعظم کو اپنے بارے میں بتانا چاہیے کہ وہ کیا ہیں؟ امریکہ کے باجگذاروں کی صف میں ہاتھ باندھ کرکھڑے مودی جی مجروح کی اسی غزل کا یہ مقطع (مع ترمیم) صادق آتا ہے؎
ڈونلڈ لکھ رہے تھے جب اہل وفا کا نام
مودی کھڑے ہوے تھے گنہگار کی طرح





