دسویں کے پہلے بورڈ امتحان میں شرکت لازمی قرار
سی بی ایس ای کا فیصلہ، دسویں کے پہلے بورڈ امتحان میں شرکت لازمی، غیرحاضری پر ایسنشل ریپیٹ لاگو ہوگا۔
مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) نے دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے نئے امتحانی نظام کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے کہ پہلی بورڈ امتحان میں شرکت لازمی ہوگی۔ بورڈ کے مطابق اگر کوئی طالب علم پہلے امتحان میں کم از کم تین مضامین میں شریک نہیں ہوتا تو اسے دوسرے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ایسے طلبہ کو ’’ایسنشل ریپیٹ‘‘ کے زمرے میں رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ طالب علم کو وہی جماعت اگلے تعلیمی سال میں دوبارہ پڑھنا ہوگی اور مرکزی امتحان میں دوبارہ شریک ہونا پڑے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق سنہ 2026 سے ہوگا، کیونکہ اسی سال سے دسویں جماعت کے لیے دو الگ الگ بورڈ امتحانات کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ بورڈ کو کچھ طلبہ اور والدین کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ پہلے امتحان میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور انہیں صرف دوسرے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ انہی درخواستوں کے پیش نظر بورڈ نے پالیسی کو مزید واضح کرتے ہوئے لازمی شرکت کی شرط دہرا دی ہے۔امتحانات کے نگران اعلیٰ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ تمام طلبہ کے لیے پہلے مرحلے میں امتحان دینا ضروری ہوگا۔ اگر کوئی طالب علم تین یا اس سے زیادہ مضامین میں غیر حاضر رہتا ہے تو اسے اگلے مرحلے میں موقع نہیں دیا جائے گا۔ ایسے طلبہ صرف آئندہ سال فروری میں ہونے والے مرکزی امتحان میں ہی شریک ہو سکیں گے۔
بورڈ نے طلبہ اور سرپرستوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے امتحانی نظام اور اس کے قواعد کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ بعد میں کسی قسم کی الجھن یا تعلیمی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





