شناخت

ملفوظات چشت کی روحانی خوشبو

ڈاکٹر مفتی محمد محمد سبطین رضا مرتضوی

برصغیر کی بنجر زمین پر جب توحید کا بیج بویا گیا، تو اس کی آبیاری کے لیےاللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کا سینہ معرفت الٰہی کا گنجینہ اور جس کی نظر اکسیراعظم تھی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ، جنہیں تاریخ نے ’’سلطان الہند‘‘ اور عقیدت نے ’’غریب نواز‘‘ کے القاب سے نوازا۔ آپ کی ذات گرامی اس عہد سعید کا دیباچہ ثابت ہوئی جہاں حق کی آواز نے باطل کے اندھیروں کو مٹا دیا۔ آپ نے ہدایت ربانی کے اس پیغام کو عام کیا جس نے دلوں کے زنگ آلود قفل کھولے اور انسانیت کو رنگ، نسل اور ذات پات کے مصنوعی بتوں سے آزاد کر کے بندگی واحد کی لازوال لڑی میں پرو دیا۔
آپ کے ارشادات عالیہ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ روشن قندیلیں ہیں جو انسانی فکر اور عمل کے تاریک گوشوں کو نور معرفت سے منور کر دیتی ہیں۔ آپ کے نزدیک تصوف محض خانقاہی تنہائی یا دنیا سے فرار کا نام نہیں، بلکہ یہ تو وہ زندہ و جاوید جہد مسلسل ہے جو فرد کو نفس کی تنگیوں سے نکال کر عشق الٰہی کی وسعتوں سے آشنا کر دیتی ہے۔ جس دور میں آپ نے ہند کی سرزمین پر قدم رنجہ فرمایا، یہاں کا معاشرہ فکری انتشار، طبقاتی جبر اور روحانی تشنگی کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا۔ ایسے میں آپ کے ان پر اثر ملفوظات نے وہ اعجاز مسیحائی دکھایا کہ پتھر دل موم ہو گئے، مردہ ضمیروں کو نئی زندگی ملی اور انسانیت کی سوئی ہوئی تقدیر بیدار ہو گئی۔ آپ نے شریعت کو طریقت کی بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ بغیر اتباع رسولﷺ کے، معرفت کی کوئی بھی منزل سر نہیں کی جا سکتی۔
آپ کے کلام میں وہ تاثیر ہے جو تیرہویں صدی میں بھی وہی تڑپ پیدا کرتی تھی جو آج کے اس مادی دور میں پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ارشادات دراصل اس باطنی پاکیزگی کا آئینہ ہیں جو ایک بندے کو اپنے خالق سے اس طرح جوڑ دیتی ہے کہ پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت مرعوب نہیں کر سکتی۔ زیر نظر صفحات میں ہم انہی روحانی جواہرات کو ترتیب دے کر ان کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کریں گے، تاکہ عصر حاضر کا انسان اس فیضان چشت سے اپنا دامن بھر سکے۔
نماز، معراج بندگی اور امانت الٰہی کا پاس:
اسلامی نظام عبادت میں نماز وہ مقام بلند رکھتی ہے جہاں پہنچ کر مادہ پرستی کے تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں۔خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کے نزدیک نماز ایک ایسی امانت ہے جس کی حفاظت ہر مومن پر فرض ہے۔ امانت میں خیانت یہ ہے کہ نماز کو خشوع و خضوع کے بغیر ادا کیا جائے یا اس کے ارکان میں سستی برتی جائے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ نماز تو پروردگار عالم کی طرف سے تمام بندوں پر ایک امانت ہے ۔ لہٰذااللہ تعالیٰ کی اس امانت کی حفاظت کرنا تمام بندوں پر واجب ہے اور اسے اس طرح اد کریں کہ کہیں بھی خیانت کا شائبہ نہ پایا جائے۔ جب انسان نماز کو شروع کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رکوع و سجود اس طرح صحیح طریقہ سے کرے جیسا کہ رکوع سجود کرنے کا حق ہے۔ اسی طرح نماز کے دیگر تمام ارکان کو بھی صحیح طریقے سے ادا کرے‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۲۵]
مزید برآں، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے نماز کی ایک نہایت لطیف اور گہری حقیقت بیان فرمائی کہ نماز ایک ایسا ’’راز‘‘ ہے جسے بندہ اپنے پروردگار سے بیان کرتا ہے، اور اس راز کو بیان کرنے کے لیے بندے کو وہ خاص قرب حاصل ہوتا ہے جو اس راز کے لائق ہوتا ہے۔ درحقیقت بندگی کے اصل راز کی باتیں تو صرف نماز ہی کی حالت میں کہی جا سکتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں:
’’کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عزت میں نماز کے بغیر قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہی نماز ہی معراج المومنین ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:’’ الصَّلوةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِینَ‘‘یعنی بندے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ اور پیوستہ رکھنے والی نماز ہی تو ہے ۔ نماز ایک راز ہے جسے بندہ اپنے پروردگار سے بیان کرتا ہے اور راز کہنے کے لیے بندے کو ایسا قرب حاصل ہوتا ہے جو اس راز کے لائق ہوتا ہے اور اصل راز کی باتیں تو صرف نماز ہی میں کہی جاسکتی ہیں‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۱۵]
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے نماز کو ایک عمارت سے تشبیہ دی ہے؛ جس طرح کوئی چھت بغیر ستون کے قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح دین کی عمارت بھی نماز کے بغیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ ستون ہے جو اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو زندگی کے باقی تمام معاملات خود بخود استقامت پا جاتے ہیں۔ نمازی جب مصلے پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ خالق کائنات کے روبرو ہے، اور یہ حاضری اس قدر باوقار اور اخلاص سے بھرپور ہونی چاہیے کہ کائنات کی کوئی دوسری فکر اس کے دل میں داخل نہ ہو سکے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’نماز دین کا ستون ہے اور ستون پر ہی مکان کا دار و مدار ہوتا ہے اگر ستون سلامت ہے تو گھر بھی سلامت ہےاور اگر مکان کا ستون ہی گر گیا تو پھر گھر بھی بیکار ہے۔چونکہ اسلام اور دین کے لیے نماز ایک ستون کی مانند ہے اس لیے نماز میں خواہ وہ فرض نماز ہو یا سنت اگر رکوع و سجود میں خرابی واقع ہو جائے تو گویا اسلام اور دین کی بنیاد ہی خراب ہو جاتی ہے۔[دلیل العارفین، ص:۲۸]
تلاوت قرآن اور وظائف کی روحانی قوت:
ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن وہ نور ہے جو دل کے اندھیروں کو دور کرتا ہے۔ قرآن کریم کی ہر ہر آیت میں شفا ہے، خاص طور پر سورہ فاتحہ، جسے ام الکتاب کہا گیا ہے، اس کی تاثیر اور شفائیہ پہلوؤں پر آپ نے بہت واضح ارشادات فرمائے۔آپ فرماتے ہیں:
’’سورۃ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ جو بیماری کسی علاج سے ٹھیک نہ ہوتی ہو تو سورہ فاتحہ کو صبح کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان بسم اللہ شریف کے ساتھ اکتالیس بار پڑھے اور پھونک مارے اللہ تعالیٰ اسے اس سورۃ کی برکت سے شفا بخشے گا۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے:’’الْفَاتِحَةُ شِفَاءِ لِكُلِّ دَاءٍ‘‘ یعنی سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفا ہے۔ ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید نور اللہ مرقدہ کو بڑی پیچیدہ بیماری لاحق ہو گئی دو سال تک وہ مریض رہا جب علاج سے مایوس ہوا تو اپنے وزیر کو حضرت خواجہ فضیل عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ میں اس بیماری کے ہاتھوں جان بلب ہو چکا ہوں میں نے کوئی علاج نہیں چھوڑا مگر صحت نہیں ہوئی الغرض حضرت خواجہ فضیل عیاض رحمۃ اللہ علیہ فورا اٹھ کر ہارون الرشید کے پاس آئے اور اپنے ہاتھ ہارون رشید کے جسم پر پھیرےاور سورۂ فاتحہ اکتالیس بار پڑھ کر اسے دم کیا ابھی وہ دم سے مکمل طور پر فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہارون الرشید تندرست اور صحت یاب ہو گئے‘‘۔[دلیل العارفین ، ص:۶۲]
لیکن ان برکات کے حصول کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان اپنے معمولات میں استقامت پیدا کرے۔ سلطان الہند نے اس بات پر بہت زور دیا کہ جو وظیفہ ایک بار مقرر کر لیا جائے، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا چاہیے۔ اسے چھوڑنا گویا روحانی تعلق کو توڑنے کے مترادف ہے۔ روحانیت کی راہ میں استقامت کا دوسرا نام ’’ورد کی پابندی‘‘ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’جو شخص کوئی وظیفہ یا ورد روزانہ پڑھنے کا عہد کرے تو اسے وہ وظیفہ یا ورد روزانہ پڑھنا چاہیے ، اگر دن کو نہ پڑھ سکے تو رات کو ضرور پڑھے۔ بہر حال وظیفہ کا ناغہ نہیں کرنا چاہیے ۔ وظیفہ سے فارغ ہو کر دوسرے کاموں میں مشغول ہونا چاہیے۔حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :’’ تارك الورد ملعون‘‘ یعنی ورد کو ترک کرنے والا ملعون ہے ۔ ایک دفعہ مولانا رضی الدین رحمۃ اللہ علیہ گھوڑے سے گر پڑے اور ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی فورا گھر آئے اور سوچا یہ حادثہ کیوں پیش آیا پھر سوچا کہ صبح کی نماز کے بعد روزانہ سورۂ یٰسین پڑھنا میر او ظیفہ تھا اور اس دن یہ وظیفہ مجھ سے فوت ہو گیا۔ بزرگان دین میں سے ایک بزرگ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ تھے ان سے ایک دفعہ وظیفہ فوت ہو گیا اسی وقت غیب سے آواز آئی اے عبداللہ ! مجھ سے جو تو نے عہد کیا ہوا تھا آج اسے بھول گئے اور روزانہ کی طرح آج تو نے اپنا وظیفہ نہیں پڑھا‘‘۔[دلیل العارفین، ص:۶۷]
راہ سلوک، ترک خودی کا نام ہے:
راہ سلوک میں قدم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پرانی شناخت اور دنیاوی وابستگیوں سے دستبردار ہو جائے۔ خواجہ غریب نوازرضی اللہ عنہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمایا کہ جو شخص ابھی تک اپنی ذات کے سحر میں گرفتار ہے یا جس کا دل دنیا کے ساز و سامان میں اٹکا ہوا ہے، وہ ’’اہل سلوک‘‘ میں شمار ہونے کا حقدار ہی نہیں ہے۔ سلوک کی پہلی شرط ’’ترک‘‘ہے۔ پہلے دنیا کا ترک، پھر اپنی خواہشات کا ترک، اور آخر میں اپنی خودی کا ترک۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’ایک دفعہ حضرت خواجہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کر رہے تھے اور یہ لفظ ان کی زبان سے نکلا: ’’كيف السلوك اليک؟‘‘ یعنی آپ کے پاس کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟ غیب سے آواز آئی اے بایزید ’’طلق نفسك ثلثا قل هو اللہ‘‘ یعنی پہلے اپنے نفس کو تین طلاقین دے دو، پھر اللہ کا نام لو۔ جب تک سالک طریقت کے راستہ میں دنیا اور دنیا کی ہر ایک چیز کوحتیٰ کہ اپنے آپ کو طلاق نہیں دے دیتا یعنی جب تک وہ ماسوی اللہ سے (اللہ کے بغیر ہر ایک چیز سے ) بیزار نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ اہل سلوک میں داخل نہیں ہو سکتا اور جو شخص مذکورہ شرائط کو پورا نہیں کرتا وہ اہل سلوک میں کذاب اور جھوٹا ہوتا ہے‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۷۹]
صحبت صالحین اور صحبت طالحین:
انسان کی شخصیت کی تعمیر میں صحبت کا اثر سب سے گہرا ہوتا ہے۔ خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کا یہ مشہور مقولہ کہ ’’نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے‘‘ دراصل اس نفسیاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صحبت صالحین سے انسان کے اندر نیکی کا شوق خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ نیک بختوں کے پاس بیٹھنے سے نہ صرف گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے بلکہ ان کی توجہ کی برکت سے سالک کے کئی برسوں کے مجاہدے لمحوں میں طے ہو جاتے ہیں؛ اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بدخصلت لوگوں کی صحبت سے بچنے کی شدید تاکید فرمائی، کیوں کہ بروں کی سنگت انسان کے ایمان کو اس طرح چاٹ جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ آپ فرماتے ہیں:
’’حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’الصحبۃ توثر ‘‘ یعنی صحبت اپنا اثر دکھاتی ہے اگر کوئی برا آدمی نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھے گا تو وہ نیک ہو جائے گا اور اگر کوئی نیک آدمی برے لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا تو وہ برا ہو جائے گا، اس لیے کہ جس نے کچھ حاصل کیا صحبت سے ہی حاصل کیا اور جس نے کوئی نعمت حاصل کی اس نے نیکوں سے ہی حاصل کی۔ اگر کوئی غلط آدمی کچھ عرصہ تک نیکوں کی صحبت اختیار کرے تو اس میں نیکوں کی صحبت کے اثر ہونے کی امید ہوتی ہے۔ نیکوں کی صحبت کو اختیار کرنا اس کی نیکی کی دلیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نیک آدمی کچھ روز بروں کی صحبت اختیار کرے تو وہ بھی انہی جیسا ہو جاتا ہے۔ سلوک میں نیکوں کی صحبت کو نیک کام کرنے سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح بروں کی صحبت کو برا کام کرنے سے بدتر سمجھا جاتا ہے‘‘۔
[دلیل العارفین، ص:۸۹]
خلق خدا کی خدمت:
تصوف کی عملی شکل اگر کسی ایک جملے میں سموئی جا سکتی ہے، تو وہ ہے ’’خلق خدا کی خدمت‘‘۔سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کے بندوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بندگی محض تسبیح کے دانوں کا نام نہیں، بلکہ کسی پیاسے کو پانی پلا دینا یا کسی بھوکے کے سامنے دسترخوان بچھا دینا وہ عظیم عبادات ہیں جو جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتی ہیں۔ جب ایک بندہ اللہ کی دی ہوئی روزی سے اس کے محتاج بندوں کو کھانا کھلاتا ہے، تو وہ رب کے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صدیوں کی مسافت کے برابر پردے حائل کر دیے جاتے ہیں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کے درمیان اور دوزخ کے درمیان سات ایسے پردے ڈال دے گا، جن میں سے ہر ایک کی چوڑائی پانچ سو کے راستہ کے برابر ہوگی‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۳۳]
حقوق العباد اور دل آزاری:
سیدنا سلطان الہند رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کا ایک نہایت حساس اور کلیدی پہلو حقوق العباد کی پاسداری ہے۔ آپ کے نزدیک تصوف محض ذکر و اذکار کی محافل تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل جوہر انسانیت کا احترام ہے۔ آپ نے بارہا متنبہ فرمایا کہ کوئی بھی تسبیح یا نفلی عبادت اس گناہ کی تلافی نہیں کر سکتی جو کسی انسان کی دل آزاری سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی مسلمان بھائی کو ذلیل کرنا یا اسے بلا سبب تکلیف پہنچانا دراصل اس کے خالق کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔انسانیت کی تذلیل اور مخلوق خدا پر ظلم وہ گناہ بے لذت ہے جس کا وبال دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی عبرت۔ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ نے قرآنی آیت کی روشنی میں واضح فرمایا کہ اہل اللہ کے نزدیک کسی مومن کو اذیت دینا کتنا بڑا جرم ہے، اور اس پر ایک ظالم بادشاہ کی حکایت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’اہل سلوک نے جس گناہ کو تیسرے درجے کا گناہ کبیرہ لکھا ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو بے وجہ تکلیف اور اذیت پہنچائے جیسا کہ کلام الٰہی میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ بِغَيْرِ مَا اكْتَسُبُوا فَقِدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَأَثْمًا مُّبِينًا‘‘ یعنی جو لوگ بے وجہ مومنین کو اذیت پہنچاتے ہیں وہ ایک گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کو اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔ ایک بادشاہ بڑا ظالم اور جابر تھا اور اس نے خدا کی مخلوق پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا ہوا تھا۔ لوگوں کو بغیر کسی جرم کے جبر اہلاک کر دیتا تھایا مختلف عذابوں میں مبتلا رکھتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اس ظالم بادشاہ کو بغداد کی مسجد کنکری میں کھڑا دیکھا گیا۔ اس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے اور وہ خاک آلود بھی تھا۔ اس کے تمام اعضاء پر خاک پڑی ہوئی تھی۔ کسی شخص نے اسے پہچان لیا اور کہا کیا تو وہی بادشاہ نہیں ہے جو مکہ میں لوگوں پر ظلم کرتا تھا ؟ الغرض وہ شرمندہ ہو گیا اور اس نے کہا کہ تو نے مجھے کیسے پہچان لیا ہے ؟ پوچھنے والے نے کہا کہ میں نے تجھے بادشاہی کے زمانہ میں دیکھا تھا جب کہ تم کسی شخص پر رحم نہیں کرتے تھے اور ہر ایک پر ظلم روا ر کھتے تھے۔ بادشاہ نے کہا ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے اس وقت مخلوق خدا کو بلا وجہ تکلیف پہنچائی تھی اور ناحق ظلم روا رکھا تھا آج اس کی سزا بھگت رہا ہوں‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۴۳]
آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اپنی ذات کے گناہ اور کوتاہیاں ایک طرف، مگر کسی دوسرے کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا یا اسے معاشرے میں ذلیل کرنا ایسا روحانی نقصان پہنچاتا ہے جس کی بھرپائی مشکل ہے۔ آپ اس حوالے سے تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’تمہارے گناہ سے تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچے گا جتنا نقصان ایک مسلمان بھائی کو ذلیل کرنے اور اس کی تو ہین کرنے پر تمہیں پہنچے گا‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۸۴]
جھوٹی قسم کھانا:
معاشرتی زندگی میں سچائی اور دیانت داری کو قائم رکھنے کے لیے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جھوٹی قسموں کی بھی سخت ممانعت فرمائی۔ جھوٹی قسم نہ صرف ایمان کو کھا جاتی ہے بلکہ یہ پورے خاندان کی برکتوں کو ختم کر کے اسے ویران کر دیتی ہے۔سلطان الہند فرماتے ہیں:
’’جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ اپنے گھر بار کو ویران کرتا ہے، اس کے گھر سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے ۔ بغداد کی جامع مسجد میں ایک واعظ تھا جسے حضرت مولانا عماد الدین رحمۃ اللہ علیہ بخاری کہتے تھے ۔وہ بڑا صالح آدمی تھا اور پند و نصیحت کرتا تھا یہ حکایت میں نے اس سے سنی ہے کہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دوزخ کی کیفیت اور صفت بیان کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے دوزخ میں ’’ہاویہ‘‘ نام کی ایک وادی پیدا کی اور وہ ساتویں درجہ کی دوزخ ہے اور دوزخ کے تمام حصوں سے یہ ’’ہاویہ‘‘ سب سے زیادہ ہو لناک تر اور تاریک تر اور تیز تر ہے، یہاں کا عذاب بھی سخت تر ہے، یہاں سانپ اور بچھو بھی بہت زیادہ ہیں اور آتشیں پتھر بھی اس حصہ میں ہیں ان پتھروں کو دوزخ کی آگ میں روزانہ بھڑ کایا جاتا ہے۔ اے موسیٰ علیہ السلام ! اگر اس دوزخ کے مصائب کا ایک ذرہ یا قطرہ بھی دنیا پر پھینکا جائے تو دنیا کے تمام پانی خشک ہو جائیں گے اور اس کی سختی سے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور اس کی گرمی سے سات زمینوں میں شگاف پڑ جائیں گے۔ اے موسیٰ! یہ سخت عذاب دو قسم کے لوگوں کے لیے ہو گا : (۱) ایک تو ان لوگوں کے لیے جو نماز اپنے وقت پر ادا نہیں کریں گے اور (۲)دوسرے ان لوگوں کے لیے جو میرے نام کی جھوٹی قسم کھائیں گے۔‘‘[دلیل العارفین، ص:۳۳/۳۴]
عظمت علماو مشائخ:
ہدایت کے راستے میں رہبر اور علم کی اہمیت مسلم ہے۔ علما اور مشائخ وہ روشن چراغ ہیں جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو خدا کا راستہ دکھاتے ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو دل ان اللہ والوں کی محبت سے معمور ہوتا ہے، اس کی عبادت کا معیار بدل جاتا ہے۔ علما کی مجلس میں بیٹھنا محض وقت گزارنا نہیں بلکہ یہ ہزار سال کی عبادت سے بڑھ کر فضیلت رکھتا ہے۔ ایک طالب صادق جب کسی عالم ربانی کی خدمت میں وقت گزارتا ہے، تو اس کے باطن کی کثافتیں دور ہونے لگتی ہیں۔ آپ نے فتاویٰ ظہیر یہ کے حوالے سے جو حدیث بیان فرمائی، وہ علم اور خدمت علما کے مرتبے کو واضح کرتی ہے کہ ان کی سات دن کی خدمت سات ہزار سال کی مقبول عبادت کے برابر اجر پاتی ہے۔ یہ فضیلت اس لیے ہے کہ عالم کی صحبت انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر معرفت کے اجالے میں لے آتی ہے اور اسے ’’علیین‘‘ جیسے بلند مقام کا مستحق بنا دیتی ہے۔سلطان الہند کا ارشاد گرامی ہے:
’’جس شخص کے دل میں علما اور مشائخ کی محبت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ہزار سال کی عبادت لکھنے کا حکم دیتا ہے، اگر وہ شخص اس دوران فوت ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اسے علمائے کرام کا درجہ عطا کرتا ہے اور اس کا مقام علیین ہوتا ہے۔ مین نے فتاوی ظہیر یہ میں دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہےکہ جوشخص علما ے کرام کی طرف بر بنائے عقیدت دیکھتا ہے اور ان کے ساتھ اس کا آنا جانا بھی ہو اور سات دن تک ان کی خدمت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف کردیتا ہےاور سات ہزار سال کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیںاور وہ نیکیاں بھی ایسی کہ دن کو ہمیشہ روزہ رکھے اور رات کو ہمیشہ قیام کرے ‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۵۱]
مقام عبرت اور آداب قبرستان:
اسلامی تعلیمات میں موت کی یاد کو دلوں کی جلا اور غفلت کے پردے چاک کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قبرستان وہ جگہ ہے جہاں انسان کو اپنی بے ثباتی اور آخرت کی ابدیت کا ادراک ہونا چاہیے۔سلطان الہند کے نزدیک قبرستان کی حدود میں دنیاوی لذتوں میں مشغول ہونا، جیسے وہاں کھانا پینا یا ہنسی مذاق کرنا، محض ایک اخلاقی کوتاہی نہیں بلکہ یہ کبیرہ گناہ اور سخت سنگدلی کی علامت ہے۔آپ نے واضح فرمایا کہ جو جگہ ’’عبرت‘‘ کے لیے مخصوص ہے، وہاں ’’حرص و ہوا‘‘ کا غلبہ نفاق کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک سچا مومن جب قبرستان جاتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی ہیبت سے لرز اٹھتا ہے اور اسے اپنی قبر کی تنہائی یاد آتی ہے۔ وہاں دنیاوی طور طریقے اختیار کرنا اللہ کی قدرت اور اس کے غضب سے بے خوفی کی دلیل ہے، اسی لیے آپ نے ایسے فعل کے مرتکب پر سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی ۔ حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں:
’’قبرستان میں ہنسنا قطعی منع ہے،کیونکہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے لہو و لعب کا مقام نہیں ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص قبرستان سے گزرتا ہے تو اہل قبور اسے کہتے ہیں اے غافل! اگر تجھے علم ہو تاکہ کو نسا مر حلہ تجھے در پیش ہے تو خوف کے مارے تیرے جسم سے گوشت اور پوست دونوں گر پڑتے۔ ایک دفعہ میں حضرت شیخ اوحد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سفر کے دوران کرمان میں ملا۔ وہ بہت ہی بوڑھا تھا اور صاحب نعمت اور مشغول بہ حق بزرگ تھا وہ اس قدر مشغول بہ حق تھا کہ میں نے ایسا کوئی اور مشغول بہ حق بزرگ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ الغرض جب میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے اسے سلام کہا میں نے دیکھا کہ اس میں صرف ایک روح باقی ہے اس کے علاوہ اس کے جسم پر گویا گوشت پوست نہیں تھا کیونکہ وہ بہت ہی کمزور تھا وہ بہت کم باتیں کرتا تھا میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس بزرگ سے یہ پوچھوں کہ تم جو اس قدر ضعیف اور کمزور ہو چکے ہو سلوک کے کون سے مقام پر فائز ہو ؟ چونکہ وہ بزرگ روشن ضمیر تھا اس نے فورا میرے اس سوال کو بذریعہ کشف معلوم کر لیا اور میرے سوال کرنے سے پہلے مجھے کہا کہ اے درویش! ایک دن میں اپنے کسی دوست کے ساتھ قبرستان کے پاس سے گزرا پھر میں ایک قبر کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا میرے دوست نے کوئی ایسی مزاحیہ بات کہی کہ میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اس پر اس قبر سے آواز آئی اے غافل ! جس شخص کو ایسی منزل در پیش ہو اور اسے ایک دن ملک الموت سے واسطہ بھی پڑنا ہو اور قبر میں حشرات الارض اور سانپ بھی ہوں تو پھر اس آدمی کو ہنسی سے کیا کام ؟ جو نہی میں نے قبر سے یہ آواز سنی فوراً میں وہاں سے اٹھا اپنے دوست سے رخصت ہونے کے لیے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور اسے الوداع کہا وہ اپنے گھر چلا گیا اور میں اسی دن سے اس غار میں ہوں؛ چنانچہ میں قبر سے آنے والی آواز کی ہیبت سے اسی غار میں اپنا وقت گزار رہا ہوں اور روزانہ قبر کی اسی آواز کو یاد کرتا ہوں۔ آج اس واقعہ کو چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے کہ میں نے اپنے قہقہے کی شرم سے آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور میں سخت شرمندہ ہوں کہ کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ کو اپنا منہ کیسے دکھاؤں گا‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۳۷/۳۸]
مزید آپ رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’قبرستان میں نفس کی تسکین کی خاطر دیدہ دانستہ کھانا پینا گناہ کبیرہ ہے، لہٰذا ایسا شخص ملعون اور منافق ہے۔ میں نے امام بینی ابو الخیر زندوسی کی کتاب ’’روضہ‘‘ میں دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’من اكل فی المقابر طعاماً او شراباً فهو ملعون و منافق‘‘یعنی جو شخص قبرستان میں کھائے پئے وہ ملعون اور منافق ہے۔ ایک دفعہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قبرستان میں سے گزر رہے تھے، انہوں نے مسلمانوں کے ایک اجتماع کو دیکھا جو قبرستان میں کھانے پینے میں مشغول تھے۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ان کے پاس گئے اور فرمایا حضرات ! تم منافق ہو یا مسلمان ؟ اس اجتماع کو یہ بات ناگوار گذری انہوں نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کو سزادینا چاہی اس پر خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو آدمی قبرستان میں کھائے پئے وہ منافق ہوتا ہے کیونکہ یہ خوف اور عبرت کا مقام ہے ذرا غور تو کرو کہ تم سے بہتر لوگ اس مٹی میں سوئے پڑے ہیں اور حشرات ارض اور سانپوں کی قید میں ہیں ان کا گوشت پوست جھڑ گیا ہے اور ان کا حسن و جمال خاک میں مل گیا ہے تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیزوں کو خاک کے سپرد کیا ہے اب تمہارا دل کیسے چاہتا ہے جو یہاں پر کھاتے پیتے ہو ؟ اور لہو و لعب میں مشغول رہتے ہو ؟ جب حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باتیں ان سے کہیں تو فور اسب نوجوان سمجھ گئے، راہ راست پر آگئے اور بد تمیزی سے بھی باز آگئے بلکہ اپنی بد تمیزی کی معذرت خواہی کی‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۴۱/۴۲]
توبہ کے مراتب اور صلح باطنی:
توبہ صرف گناہوں کو چھوڑ دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل قلبی انقلاب اور معبودحقیقی کی طرف واپسی کا عمل ہے۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ کے نزدیک توبہ کی حقیقت محض زبان سے استغفار کر لینا نہیں، بلکہ یہ وہ صلح باطنی ہے جو انسان کے پورے وجود کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ جب تک انسان کے دل میں ماضی کی کوتاہیوں پر سچی تڑپ پیدا نہ ہو اور وہ عملی طور پر کینہ و پرخاش سے باز نہ آ جائے، اس کی توبہ کی عمارت ادھوری رہتی ہے۔ ایک سچے تائب کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ہر دم صلح جوئی اور امن کا پیکر بن کر رہے اور اپنے نفس کو ہر قسم کے ظلم و جدل سے پاک کر لے۔ آپ کے نزدیک عام لوگوں کی توبہ محض گناہ سے بچنا ہے، مگر راہ عشق کے مسافروں کے لیے توبہ کے تقاضے نہایت بلند ہیں۔ آپ نے اہل اللہ کی توبہ کو تین بنیادی ارکان میں تقسیم فرمایا ہے، جو سالک کو نفس کی قید سے آزاد کر کے اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ آپ اس ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’اہل محبت کی توبہ تین قسم کی ہے: پہلی قسم ندامت ہے۔ دوسری قسم ترک معصیت ہے اور تیسری قسم خود کو جھیڑوں جھگڑوں مخمصوں سے پاک کرنا ہے‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۱۰۶]
سلطان الہند رضی اللہ عنہ نے توبہ کو محض ایک جذباتی کیفیت کے بجائے ایک ضابطہ حیات قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک توبہ کی تکمیل تب ہوتی ہے جب انسان اپنی ترجیحات بدل لے؛ یعنی برے ماحول سے کنارہ کش ہو جائے، رزق حلال کی جستجو کرے اور حکم الٰہی پر استقامت اختیار کرے۔ آپ توبہ کے ان عملی درجات کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’توبہ کے چند مقام ہوتے ہیں جن میں سب سے پہلا مقام جاہلوں سے دور رہنا، باطل پرستوں سے لا تعلقی کرنا اور منکروں سے روگردانی کرنا ہے۔ اپنے محبو ب حقیقی کے حکم کے مطابق چلنا، نیکیوں میں جلدی کرنا، توبہ پر پکا رہنا، مظالم کو برداشت کرنا، غنیمت کو طلب کرنا اور رزق حلال کا حاصل کرنا ہے‘‘۔ [دلیل العارفین، ص:۱۰۱]
تزکیہ نفس کے چار موتی:
انسانی نفس کی پاکیزگی اور اس کی اصل قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ حالات کے تضادات کے درمیان اپنا توازن برقرار رکھے۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کے مطابق نفس کی تربیت کا مقصد اسے مٹانا نہیں بلکہ اسے اخلاق عالیہ کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ درویشی میں امیری دکھانا، بھوک میں سیر نظر آنا اور غم کے پہاڑ ٹوٹنے پر بھی مسکراتے رہنا؛ یہ وہ صفات ہیں جو صرف مردان حق کا خاصہ ہیں۔ نفس کا سب سے بڑا جوہر یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی دوستی اور مروت کا برتاؤ کیا جائے۔ یہ عمل نفس امارہ کو مغلوب کرنے کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک ایک سچے سالک کی پہچان یہ ہے کہ اس کا باطن اللہ سے لو لگائے ہو اور ظاہر مخلوق کے لیے سراپا استغنا ہو۔ آپ نے نفس کی چار ایسی نادر صفات کا ذکر فرمایا ہے جو انسانی کردار کو موتیوں کی طرح چمکا دیتی ہیں اور اسے دوسروں کی ہمدردی یا ستائش کا محتاج نہیں رہنے دیتیں۔ آپ اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’چار چیزیں نفس کا گوہر ہیں: ایک تو ایسی درویشی ہو جو تو نگری معلوم ہو، دوسری ایسی بھوک ہو جو بظاہر سیری معلوم ہو، تیسری ایسی غمگینی ہو جو اوپر سے خوش نظر آئے، چوتھی چیز جو آدمی تیرا دشمن ہو اس سے بھی تم دوستی رکھو۔‘‘ [دلیل العارفین، ص:۱۰۹]
فکر چشت اور عصر حاضر کا انسان:
سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ کے یہ ارشادات عالیہ محض ماضی کی کوئی بازگشت نہیں، بلکہ یہ ایک ابدی ضابطہ حیات ہیں جو ہر دور کے انسان کی رہنمائی کا سامان رکھتے ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ بندگی صرف پیشانی کے سجدوں کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں غیر اللہ کی محبت کا کوئی نشان باقی نہ رہے اور مخلوق خدا کے لیے سینہ بے کینہ ہو جائے۔ آج کا انسان جو مادی ترقی کے ہنگاموں میں اپنی باطنی سکون کھو چکا ہے، اس کے لیے توبہ کے وہ مراتب، صحبت صالحین کی وہ برکات اور نفس کے وہ ’’چار گوہر‘‘ جن کا ذکر ان صفحات میں کیا گیا، کسی نسخہ کیمیا سے کم نہیں ہیں۔ آپ نے سکھایا کہ خدا کو پانے کا مختصر ترین راستہ اس کے بندوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ حقوق العباد کی پاسداری اور دل آزاری سے گریز ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن اور محبت کے معاشرے کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روحانی جواہرات کو صرف نوک زبان یا زینت قرطاس نہ بنائیں، بلکہ اپنی زندگیوں کو اس ’’فیضانِ چشت‘‘ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے ان برگزیدہ بندوں کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے ارشادات کی روشنی میں اپنی عاقبت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

شناخت

مبلغ اسلام حضرت علامہ محمد عبد المبین نعمانی مصباحی— حیات وخدمات

از:محمد ضیاء نعمانی مصباحی متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی کامیابی اور قوم
شناخت

فضا ابن فیضی شخصیت اور شاعری

17 جنوری آج مشہور معروف شاعر فضا ابن فیضی کا یوم وفات ہے فیض الحسن فضا ابن فیضی یکم جولائی