جاپان،اوساکا میں سونے کی اینٹوں کا بڑا عطیہ
اوساکا میں نامعلوم شخص کا سونے کی اینٹوں کا عطیہ، پرانی پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت پر خرچ ہوگا۔
اوساکا، جاپان کے ایک نامعلوم مخیر شخص کی جانب سے دی گئی سونے کی اینٹوں کے عطیے نے شہری حکام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تقریباً 56 کروڑ ین مالیت کی یہ سونے کی اینٹیں، جن کی قدر لگ بھگ 36 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے، گزشتہ نومبر میں شہر کے حوالے کی گئیں۔ عطیہ دہندہ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اوساکا کے میئر ہیدیوکی یوکو یاما نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس غیر معمولی عطیے کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی پرانی اور بوسیدہ ہوتی پائپ لائنوں کی مرمت اور تبدیلی کے لیے بھاری سرمایہ درکار ہے اور ایسے وقت میں یہ تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مخیر شخص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غیر معمولی سخاوت پر الفاظ میں مکمل اظہار نہیں کر سکتے۔
میئر کے مطابق یہی عطیہ دہندہ اس سے قبل بھی بلدیہ کے نظامِ آب رسانی کے منصوبے کے لیے پانچ لاکھ ین نقد دے چکا ہے، تاہم حالیہ عطیہ اپنی مالیت اور نوعیت کے اعتبار سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ سونے کی اینٹوں کو فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔تقریباً تیس لاکھ آبادی پر مشتمل اوساکا جاپان کے کانسائی خطے کا ایک بڑا تجارتی مرکز اور ملک کا تیسرا بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔ صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے باعث یہاں بنیادی سہولیات پر مسلسل دباؤ رہتا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں پانی اور سیوریج کی پائپ لائنیں اپنی معیاد پوری کر چکی ہیں، جس کے باعث رساؤ اور دیگر تکنیکی خرابیاں سامنے آ رہی ہیں۔
شہر کے محکمہ آب کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران سڑکوں کے نیچے بچھائی گئی پانی کی پائپ لائنوں میں رساؤ کے نوّے سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو آئندہ برسوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے میں یہ خطیر عطیہ شہری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور عوام کو محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔





