اسٹاک مارکیٹ میں بڑی گراوٹ،سینسیکس اورنفٹی کم ترین سطح پر
سینسیکس اور نفٹی میں بڑی گراوٹ، ایک سال کی کم ترین سطح، تیل قیمتیں بڑھیں، روپیہ دباؤ کا شکار رہا۔
پیر کے روز کاروباری ہفتے کے اختتام پر بھارتی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھنے میں آئی، جس نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا اہم انڈیکس سینسیکس تقریباً 2.22 فیصد کمی کے ساتھ 71,947 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس بھی 2.14 فیصد گر کر 22,331 پوائنٹس تک آ گیا۔ یہ دونوں بڑے انڈیکس قریباً ایک سال کی اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئے، جو مارکیٹ کے مجموعی رجحان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ صرف ایک دن تک محدود نہیں بلکہ پورے مہینے کے دوران مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ 2020 کے بعد یہ سب سے بڑی ماہانہ کمی ہے، جب عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال اپنے عروج پر تھی۔ اس بار بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، کیونکہ عالمی حالات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی منڈیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس تنازع کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر تقریباً 115 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر درآمدی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔ بھارت جیسے ممالک، جو بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں دباؤ بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب بھارتی روپے کی کارکردگی بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ پیر کے روز روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہا اور 94.83 کی سطح پر بند ہوا، تاہم مجموعی طور پر پورا مالی سال اس کے لیے مشکلات سے بھرپور رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی کشیدگی، عالمی سیاسی حالات اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل نے روپے کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔
موجودہ حالات نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں بھارتی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں، اور سرمایہ کار آئندہ دنوں میں مزید احتیاط برتنے کے موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔





