مہاگٹھ بندھن کی بڑی شکست، ووٹ تقسیم اور حکمتِ عملی ناکام
مہاگٹھ بندھن کو AIMIM، جن سوراج اور وی آئی پی سے ووٹ نقصان ہوا، جب کہ وہ بڑی کامیابی کے لیے ہندو ووٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج نے مہاگٹھ بندھن کے لیے بڑے سیاسی جھٹکے کی شکل اختیار کی۔ این ڈی اے نے 203 سے زیادہ نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ مہاگٹھ بندھن صرف 33۔34 نشستوں تک سکڑ گیا۔ انتخابی ماہرین کے مطابقشکست کی وجہ صرف این ڈی اے کی مضبوطی نہیں بلکہ ووٹ بینک کی اندرونی تقسیم اور مہاگٹھ بندھن کی انتخابی کمزوریاں بھی تھیں۔
AIMIM نے سیمانچل میں سیاسی ماحول بدلا۔
اے آئی ایم آئی ایم نے اس بار سیمانچل میں غیرمعمولی اثر دکھایا اورجوکی ہاٹ، بہادرگنج، کوچا دھامن، اموراوربائسی کی نشستیں جیت لیں۔
تقریباً 7۔10 حلقوں میں آر جے ڈی کو نقصان پہنچا، جہاں مسلم ووٹ تقسیم ہونے سے مہاگٹھ بندھن پچھڑ گیا اورکئی مقامات پر توآر جے ڈی تیسری پوزیشن پر چلی گئی۔
پارٹی کا ووٹ شیئر 1.4% تک رہا، سیمانچل میں اثر 10–15% تک نوٹ کیا گیا۔لیکن یہ بات اہم ہے کہ مہاگٹھ بندھن کی ہار صرف مسلم ووٹ کی تقسیم کی وجہ سے نہیں ہوئی۔تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مہاگٹھ بندھن بڑی تعداد میں ہندو ووٹوں کو اپنی طرف لانے میں بالکل ناکام رہا، جس سے این ڈی اے کو یک طرفہ فائدہ ملا۔
پرشانت کشور کی جن سوراج ۔ ووٹ کاٹے، سیٹ نہ جیت سکے۔
جن سوراج ایک بھی سیٹ نہ جیت سکی لیکن 3.5% ووٹ شیئر لے گئی۔کانگریس، بائیں بازو اور شہری نوجوان ووٹرز کو متاثر کیا۔اندازے کے مطابق 5۔7 نشستیں ایسی تھیں جہاں جن سوراج نے مہاگٹھ بندھن کا نقصان بڑھایا اور نتیجہ این ڈی اے کے حق میں گیا۔
مکیش ساہنی کی وی آئی پی۔ اتحادی ہوتے ہوئے بھی نقصان دہ۔
وی آئی پی نے 12 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، سب ہار گئے۔ملاح/نِشاد ووٹ بڑی تعداد میں این ڈی اے کی طرف چلا گیا۔
اس وجہ سے 3۔4 نشستیں مہاگٹھ بندھن کے ہاتھ سے نکلی۔
کانگریس اتحاد کی سب سے کمزور کڑی
2020 میں 19 نشستیں، 2025 میں گھٹ کر محض 4۔6 نشستیں۔
ووٹ شیئر میں 1.5% کمی۔
اندرونی اختلافات اور کمزور قیادت نے مہاگٹھ بندھن کی پوزیشن مزید خراب کی۔واضح رہے کہ صرف ووٹ تقسیم نہیں، حکمتِ عملی کی مکمل ناکامی رہی۔ماہرین کے مطابق مسلم ووٹ کی تقسیم ایک فیکٹر ضرور تھا، لیکن اصل ناکامی یہ تھی کہ مہاگٹھ بندھن ہندو ووٹ کو اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔ اس کے ساتھ کانگریس کی کمزوری اور نئی پارٹیوں کی موجودگی نے نقصان دگنا کر دیا۔





