کھڑگے کا مودی کی تقریر پر سخت ردعمل
کھڑگے نے مودی کی تقریر کو بے جواب قرار دیا، راہل گاندھی کے اقتباس پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حالیہ تقریر پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ایوانِ بالا میں تقریباً ستانوے منٹ تک خطاب کیا، مگر اپوزیشن کی جانب سے صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر اٹھائے گئے نکات کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ کھڑگے کے مطابق وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں زیادہ تر گزشتہ سو برس، پچھتر برس اور پچاس برس کی تاریخی باتوں کا تذکرہ کیا، لیکن موجودہ سوالات اور اعتراضات کو نظر انداز کر دیا۔ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعظم کا یہ بیان کہ جنرل منوج مکوند نرونے کی کتاب شائع نہیں ہوئی، حقائق کے منافی ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی کتاب منظرِ عام پر آ چکی ہے اور اس کے باوجود حکومت اس کے وجود سے انکار کرتی ہے تو یہ معاملہ پارلیمانی استحقاق سے جڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور وزیرِ دفاع کی جانب سے بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا، حالانکہ متعلقہ کتاب کی اشاعت ہو چکی ہے۔ کھڑگے نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے ایوان میں وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آغاز سے ہی ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی تقریر بنی۔ راہل گاندھی نے ایک معروف جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کے کچھ اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ایوان میں اس پر اعتراض اٹھایا گیا اور انہیں مکمل اقتباس پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔راہل گاندھی نے حکومتی بنچوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت خود کو دہشت گردی کے خلاف مضبوط مؤقف رکھنے والی قرار دیتی ہے، لیکن ایک کتاب کے اقتباس سے گھبرا رہی ہے۔ ان کا سوال تھا کہ آخر اس اقتباس میں ایسا کیا درج ہے جسے پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کو کسی بات کا خوف نہیں تو انہیں ایوان میں بات مکمل کرنے دی جائے۔
ان تمام بیانات کے بعد پارلیمنٹ کا ماحول مزید گرما گیا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید بحث کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر کتاب اور اس کے مندرجات کو لے کر اختلاف برقرار رہتا ہے۔





