کیرالہ کے سیرو مالابار چرچ کی ووٹر لسٹ مہم میں شمولیت کی اپیل
سیرو مالابار چرچ نے کیرالہ میں ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی مہم میں عوامی شمولیت اور آگاہی کی اپیل کی۔
کیرالہ کے مشہور سیرو مالابار چرچ نے اپنے تمام ماننے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاست میں ۴ نومبر سے ۴ دسمبر تک جاری رہنے والی خصوصی نظرِثانی (Special Intensive Revision – SIR) کے عمل میں بھرپور حصہ لیں۔چرچ کے پبلک افیئرز کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن اراکین کے نام سن ۲۰۰۲ کی ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما اصولوں کے مطابق ضروری دستاویزات تیار رکھیں۔بیان کے مطابق، “SIR کے لیے مقرر سرکاری اہلکار عوامی سہولت کے لیے ہیں۔ اس لیے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بوُتھ لیول افسران (BLOs) سے رابطہ کریں، ان کے فون نمبر حاصل کریں اور ووٹر فہرست سے متعلق کسی بھی شبہے کو دور کریں۔‘‘
چرچ کے پبلک افیئرز سیکریٹری فادر جیمز کوکّاوایلّل نے وضاحت کی کہ چرچ کے بہت سے پیروکار بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
’’جو لوگ دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں مگر وہاں کی شہریت حاصل نہیں کی، وہ SIR فارم آن لائن بھر سکتے ہیں یا اپنے خاندان یا رشتہ داروں کی مدد لے سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ہندوستان میں موجود ہیں، وہ بیرونِ ملک رہنے والے بھارتی شہریوں کو اس عمل سے آگاہ کریں تاکہ کوئی رکن ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے محروم نہ رہ جائے۔چرچ کے ترجمان فادر ٹام اُلیکاروٹ نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں کہا کہ چرچ کی جانب سے جاری یہ ہدایت غیر معمولی نہیں، بلکہ محض آگاہی مہم کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق، ’’ہمارے بہت سے افراد خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر جگہوں پر آباد ہیں۔ ہم صرف انہیں متوجہ کر رہے ہیں کہ وہ اس انتخابی عمل میں غفلت نہ برتیں۔ یہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔‘‘
دوسری جانب، ریاست میں ہونے والی ایک آل پارٹی میٹنگ میں حکمراں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) اور حزبِ اختلاف کی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) نے اس معاملے پر یکساں موقف اختیار کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایل ڈی ایف حکومت اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کے لیے قانونی مشورے حاصل کر رہی ہے، کیونکہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات عنقریب متوقع ہیں۔دریں اثنا، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے موقف کی مخالفت کی ہے۔





