ایران کشیدگی پر اسرائیل کی سخت تیاریوں کا اعلان
نیتن یاہو اور اسرائیلی قیادت ایران کشیدگی کے درمیان سخت جوابی اقدامات کی تیاری کر رہی ہیں۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ ملک پیچیدہ اور انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، جس سے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تشویش ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات قوم کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں اور آئندہ عرصے میں غیر یقینی صورتحال کا امکان ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا، مگر ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں کے دوران اتحاد لازمی ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر تہران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسے سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ ایران کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دریں اثنا، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے توانائی کے ذرائع اور تیل کے ذخائر پر حملے لازمی ہیں تاکہ، ان کے بقول، ’آیت اللہ حکومت‘کا اقتدار کمزور ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، مگر یہ اقدام قومی مفاد میں ضروری ہے۔ لاپیڈ نے کہا، “ہم اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے تحفظ کے لیے متحد ہوں گے۔”
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو نے وزیر دفاع بینٹز، چیف آف اسٹاف ایال زامیر، موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بنڈر کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے اثرات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس دوران تل ابیب نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے دوران فوری ردعمل دینے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔علاوہ ازیں، امریکہ نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر نظر رکھنے کے لیے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکی ایندھن بھرنے والے طیارے بن گوریون ہوائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوراً کارروائی کی جا سکے۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے تین گھنٹے سے زائد اجلاس کیا۔ حکام نے جینیوا میں طے شدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کے اگلے دور کو کلیدی مرحلہ قرار دیا، جس میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں عمان نے گزشتہ سال بھی دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی سہولت فراہم کی تھی۔




