بوشہر جوہری پلانٹ پر مبینہ حملوں پر ایران کا ردعمل
ایران نے بوشہر جوہری پلانٹ پر مبینہ حملوں کا الزام لگا کر خبردار کیا کہ ریڈیوایکٹو اثرات خلیجی ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب مبینہ حملوں پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کو یوکرین کے زاپوریزہیا جوہری پلانٹ کے قریب ہونے والی کارروائیوں پر مغربی ممالک کے شدید ردِعمل کو یاد رکھنا چاہیے، مگر اب اسی نوعیت کے واقعات پر وہی ممالک خاموش دکھائی دیتے ہیں۔عباس عراقچی کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کو چار مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی قسم کا ریڈیوایکٹو اخراج ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے بڑے شہروں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حالیہ حملوں میں ایران کے پیٹروکیمیکل مراکز کو نشانہ بنایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آوروں کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کی مذمت کرے، کیونکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔





