ایران کا امریکہ کو دوٹوک پیغام جنگ یا جنگ بندی
عباس عراقچی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ جنگ یا جنگ بندی میں سے ایک کا انتخاب کرے، دونوں ممکن نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورت حال کے تناظر میں عباس عراقچی نے امریکہ کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیک وقت جنگ اور جنگ بندی دونوں پالیسیوں پر نہیں چل سکتا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے لیے اصول بالکل واضح ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ واقعی کشیدگی میں کمی چاہتا ہے یا پھر اسرائیل کے ذریعے جاری فوجی کارروائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ دنیا اس وقت لبنان میں جاری تشدد اور جانی نقصان کو بغور دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ذمےداری اب امریکہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور بیانات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ امریکہ عملی اقدامات کے ذریعے امن کی راہ اختیار کرتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے حالیہ جنگ بندی کے اعلان کی اصولی حمایت ضرور کی ہے، تاہم اس نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان کے لیے لاگو نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے اسرائیلی افواج کی کارروائیاں لبنان کے مختلف علاقوں میں بدستور جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ادھر شہباز شریف نے اپنے بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بھی وسیع ہونا چاہیے تاکہ وہاں کے شہریوں کو بھی ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک چھوٹا سا فیصلہ بھی بڑے نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے طرزِ عمل پر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، اور آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔





