ایران جنگ اختتام کے قریب، ٹرمپ کا بڑی کامیابی کا دعویٰ
امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے خلاف فوجی کارروائی اختتام کے قریب، ہزاروں اہداف تباہ، مکمل فتح تک آپریشن جاری رکھنے کا عزم۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ یہ جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکہ طے شدہ منصوبے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی مہم کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اس کارروائی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔فلوریڈا کے شہر ڈورال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس مہم کے دوران اب تک تقریباً پانچ ہزار ایرانی اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ایک خاص مقصد کے تحت کی گئیں اور امریکہ نے بہت کم وقت میں اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسا اوقات کسی بڑے خطرے کو ختم کرنے کے لیے محدود لیکن فیصلہ کن کارروائی ضروری ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ فوجی مہم زیادہ طویل نہیں ہوگی۔ ان کے بقول امریکہ نے کئی حوالوں سے برتری حاصل کر لی ہے، تاہم وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک مکمل کامیابی حاصل نہ ہو جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کا بنیادی مقصد اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے جو ان کے مطابق طویل عرصے سے عالمی سلامتی کے لیے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ایک رسمی پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران میں جاری فوجی آپریشن کوانتہائی کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران مستقبل میں طویل مدت تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو۔ ان کے مطابق ایران میں ابھی بھی چند ایسے اہداف موجود ہیں جنہیں اگر ضرورت پڑی تو بہت کم وقت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔
ریپبلکن قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران میں مختصر دورانیے کی کارروائی اس لیے کرنا پڑی کیونکہ کچھ خطرناک عناصر کو روکنا ضروری تھا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اگرچہ کئی محاذوں پر کامیابی حاصل ہو چکی ہے، مگر ان کے نزدیک یہ ابھی مکمل فتح نہیں ہے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بڑی حد تک اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ تاہم ایک اور انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے معاملے پر انتظامیہ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔اسی دوران انہوں نے ایران کی قیادت کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر تنقید کی، لیکن بعد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح موقف نہیں دیا کہ وہ ایران میں قیادت کے حوالے سے کس قسم کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں یا اس مقصد کے حصول کا طریقہ کیا ہوگا۔





