ایران نے ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا
ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ مسترد، کہا کوئی رابطہ نہیں، بات چیت جنگی مقاصد پورے ہونے کے بعد ہوگی۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بات چیت جاری نہیں ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ٹرمپ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران اس مؤقف پر قائم ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ سے متعلق ایران کے مقاصد مکمل ہو جائیں گے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے اور ایران اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نہ تو براہِ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی رابطہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی خفیہ یا پس پردہ گفتگو جاری ہے۔یہ خبر رساں ادارہ ایران کے طاقتور عسکری ادارے اسلامی انقلابی گارڈ کور سے قریبی تعلق رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی رپورٹس کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے دفاعی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں مذکورہ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ جب ٹرمپ کو ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں آگاہی ہوئی، جس میں مغربی ایشیا کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات شامل تھی، تو انہوں نے اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کی۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔





