ایران تنازع، ہرمز بندش سے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ
ایران کشیدگی، آبنائے ہرمز بندش سے تیل مہنگا، اوپیک پلس، کمپنیاں اور تاجر عالمی قیمتوں پر اثر انداز ۔
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایران نے جنگی حالات کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آخر تیل کی قیمتوں کا تعین کس طرح ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا سادہ جواب منڈی ہے، مگر اس منڈی میں کئی اہم کردار شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں تیل پیدا کرنے والے ممالک اور بڑی توانائی کمپنیاں ہیں، جب کہ دوسرا اہم کردار سرمایہ کاروں اور تاجروں کا ہے جو تیل کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک میں ایک اہم اتحاد اوپیک پلس ہے، جس میں 23 ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک باہمی مشاورت سے تیل کی پیداوار کی سطح کا تعین کرتے ہیں تاکہ عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ اگر یہ ممالک قیمتوں میں اضافہ چاہتے ہیں تو پیداوار کم کر دیتے ہیں، جبکہ قیمتیں کم کرنے کے لیے پیداوار بڑھا دی جاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی تیل پیداوار کا بڑا حصہ اسی اتحاد سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کے فیصلے عالمی منڈی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قیمتوں کا مکمل کنٹرول کسی ایک گروہ کے پاس نہیں ہوتا۔ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں جیسے شل اور بی پی اپنی حکمت عملی خود طے کرتی ہیں، جبکہ امریکا اور دیگر غیر رکن ممالک بھی آزادانہ طور پر پیداوار کے فیصلے کرتے ہیں۔
دوسری جانب تیل کے تاجر اور سرمایہ کار بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگ ’’فیوچرز کنٹریکٹس‘‘کے ذریعے مستقبل کی قیمتوں پر سودے کرتے ہیں، یعنی وہ پہلے سے طے شدہ قیمت پر آئندہ کسی تاریخ میں تیل خریدنے یا فروخت کرنے کے معاہدے کرتے ہیں۔ اس طرح یہ عمل دراصل قیمتوں کے مستقبل پر ایک اندازہ یا شرط ہوتا ہے، جو منڈی کے رجحانات کو متاثر کرتا ہے۔اسی طرز پر گیس کی قیمتوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے، جہاں پیداوار اور سرمایہ کاری دونوں عوامل مل کر عالمی توانائی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔






