بھارت ایران سے خام تیل درآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں
بھارت ایران سے خام تیل بلا رکاوٹ درآمد کر رہا ہے، ریفائنریز اپنی ضروریات پوری کر رہی ہیں، سپلائی محفوظ ہے۔
بھارت نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ ایران سے خام تیل کی خریداری کے سلسلے میں کوئی ادائیگی یا مالی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور ملکی ریفائنریز دیگر عالمی فراہم کنندگان کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی تیل خرید رہی ہیں۔توانائی کے شعبے کے حکام نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان رپورٹس کی تردید کی، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے تیل لے جانے والا ایک ٹینکر بھارت کی بجائے چین کی جانب روانہ ہوگیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ گجرات کے وادی نار سے متعلق یہ دعوے حقائق کے منافی ہیں اور ایران سے خام تیل کی درآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔
وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق، بھارت دنیا کے 40 سے زائد ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے اور ملکی کمپنیوں کو تجارتی ضروریات کے مطابق کہیں سے بھی تیل خریدنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حالانکہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں خلل رہا، بھارتی ریفائنریز نے اپنی ضروریات کے مطابق خام تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس میں ایران سے آمد بھی شامل ہے۔وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی تیل کی تجارت میں جہازوں کے منزل کے مقام (ڈیسٹینیشن) میں تبدیلی معمول کی بات ہے۔ بل آف لوڈنگ میں دیئے گئے بندرگاہ کے نام اکثر ہدایت کے لیے ہوتے ہیں اور سفر کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔ وزارت نے عوام کو اعتماد دلایا کہ آنے والے مہینوں میں بھارت کی خام تیل کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
مزید برآں وزارت نے بتایا کہ ‘سی برڈ’ نامی ایل پی جی جہاز، جس میں تقریباً 44 ہزار میٹرک ٹن ایرانی ایل پی جی موجود تھی، 2 اپریل کو منگلور پہنچا اور فی الحال وہاں اس کا کارگو اتارا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی توانائی کی ضروریات اور سپلائی چین دونوں مستحکم ہیں اور ملکی ریفائنریز کو درکار خام مال بروقت میسر ہو رہا ہے۔بیان میں زور دیا گیا کہ بھارت کی توانائی پالیسی میں تیل کی درآمد کے ذرائع متنوع ہیں تاکہ کسی ایک ملک یا خطے پر انحصار کم سے کم رہے۔ اس حکمت عملی کی بدولت عالمی منڈی میں کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے باوجود ملکی ریفائنریز کو اپنی پیداوار جاری رکھنے میں دشواری نہیں ہوگی۔





