کلکتہ میں رِچا گھوش کو اعزاز، ممتا بینرجی اور گنگولی کی شرکت
کلکتہ میں رِچا گھوش کو اعزاز، 34 لاکھ انعام، ممتا بینرجی نے ڈی ایس پی تقرری دی، گنگولی نے تعریف کی۔
کلکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں ہفتہ کے روز ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی، سابق بھارتی کرکٹ کپتان سوربھ گنگولی، خاتون کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان جھولن گوسوامی اور کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال (سی اے بی) کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد بھارتی خاتون کرکٹ ٹیم کی نمایاں کھلاڑی رِچا گھوش کی شاندار کارکردگی کو سراہنا تھا۔تقریب کے دوران وزیراعلیٰ ممتا بینرجی اور سوربھ گنگولی نے مشترکہ طور پر اس امید کا اظہار کیا کہ ’’ایک دن رِچا گھوش بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت کریں گی۔‘‘ رِچا کو ان کی بہترین کارکردگی کے اعتراف میں 34 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ اس موقع پر سوربھ گنگولی نے کہا کہ ’’رِچا نے فائنل میچ میں 34 رنز بنائے تھے، اسی مناسبت سے انہیں 34 لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ سی اے بی کی جانب سے رِچا کو سونے کا بیٹ اور بال بھی بطور اعزاز پیش کیا گیا۔
وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے رِچا گھوش کو ریاستی حکومت کی طرف سے بنگ بھوشن ایوارڈ سے نوازا اور ساتھ ہی انہیں ڈی ایس پی (ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) کے عہدے کا تقرری نامہ بھی دیا۔ ممتا بینرجی نے اپنی محبت اور فخر کے اظہار کے طور پر رِچا کے گلے میں سونے کا ہار بھی پہنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’رِچا نے نہ صرف مغربی بنگال بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا ہے، ہمیں ان پر فخر ہے۔‘‘اسی تقریب میں وزیراعلیٰ نے سوربھ گنگولی کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مستقبل میں آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کے صدر کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے بقول، ’’سوربھ گنگولی بنگال کی شان ہیں، انہوں نے بطور کپتان اور منتظم ہمیشہ بھارتی کرکٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔‘‘
تقریب میں رِچا گھوش اپنے والدین کے ساتھ شریک تھیں۔ وہ سلیگڑی کی رہائشی ہیں اور گزشتہ روز ہی اپنے آبائی شہر سے کولکتہ پہنچی تھیں۔ ان کی کامیابی پر اہلِ خانہ نہایت پُرجوش اور فخر سے سرشار نظر آئے۔تقریب میں موجود جھولن گوسوامی نے بھی رِچا کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے رِچا کی صلاحیت سب سے پہلے 2013 میں سی اے بی کے ایک ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے دوران دیکھی تھی۔ جھولن کے مطابق، ’’اس وقت میں نے ریاست کے تمام اضلاع سے باصلاحیت لڑکیوں کو سامنے لانے کا مشورہ دیا تھا۔ انہی ٹرائلز میں رِچا پہلی بار میری نظر میں آئیں۔ ان کی بیٹنگ میں وہ نکھار اور اعتماد تھا جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج رِچا گھوش نے اپنی محنت اور عزم سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خواب دیکھنے والے اگر موقع پائیں تو عالمی سطح پر اپنی پہچان ضرور بنا سکتے ہیں۔‘‘یہ تقریب نہ صرف ایک باصلاحیت کھلاڑی کے اعزاز میں تھی بلکہ مغربی بنگال میں خواتین کرکٹ کے فروغ کی ایک روشن مثال بھی بنی۔ ایڈن گارڈنز میں موجود شائقینِ کرکٹ نے رِچا گھوش کو بھرپور داد دی اور ان کی کامیابیوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔





