راجیہ سبھا میں ہری ونش کو صدر سے نئی مدت مل گئی
ہری ونش کی مدت ختم ہونے پر صدر نے نامزد کر دیا، وہ مزید چھ سال راجیہ سبھا کے رکن رہیں گے۔
راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کی بطور رکن مدت آج یعنی 10 اپریل کو مکمل ہو گئی تھی، جس کے بعد یہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا تھا کہ وہ ایوانِ بالا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اس نشست کے لیے انتخابی عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا اور ان کی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ نے بھی اس بار انہیں دوبارہ راجیہ سبھا نہیں بھیجا تھا۔لیکن عین وقت پر حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اپنے آئینی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ہری ونش کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کر دیا۔ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔ اس نامزدگی کے بعد اب یہ طے ہو گیا ہے کہ ہری ونش آئندہ چھ برس تک ایوانِ بالا کے رکن رہیں گے، اور یہ ان کی تیسری مدت ہوگی۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر نے ایک نامزد رکن کی سبکدوشی کے باعث خالی ہونے والی نشست کو پُر کرنے کے لیے ہری ونش کو نامزد کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 80 کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ادب، فنون، سائنس اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کریں۔ ان نامزد اراکین کی مدت بھی منتخب اراکین کی طرح چھ سال ہوتی ہے۔ہری ونش پیشے کے اعتبار سے صحافی رہے ہیں اور انہیں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ پہلی بار اپریل 2014 میں راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہیں مسلسل دو بار ایوان میں بھیجا گیا، تاہم تیسری بار پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا، جس کے باعث ان کی رخصتی یقینی مانی جا رہی تھی۔
ہری ونش 9 اگست 2018 کو پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور 14 ستمبر 2020 کو دوبارہ اسی عہدے پر فائز کیے گئے۔ اب جبکہ انہیں ایک اور مدت مل گئی ہے، سیاسی حلقوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ تیسری بار بھی ڈپٹی چیئرمین منتخب کیے جائیں گے یا نہیں۔





