حکومت اپوزیشن کو غیر ملکی رہنماؤں سے ملنے نہیں دیتی،راہل
راہل گاندھی نے کہا حکومت غیر ملکی رہنماؤں کو اپوزیشن سے ملنے سے روکتی ہے، یہ جمہوری روایت کے خلاف ہے۔
بھارتی لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مجوزہ دورۂ ہند پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپوزیشن کو غیر ملکی مہمانوں سے ملنے کا موقع نہیں دیتی۔ ان کے مطابق یہ رویّہ ہندوستان کی سیاسی روایت اور پارلیمانی طرزِ عمل کے خلاف ہے۔صحافیوں سے گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ بھارت میں طویل عرصے سے یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی غیر ملکی سربراہ یا اہم رہنما ملک کا دورہ کرتا ہے تو حکومتِ وقت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی کے دور میں بھی یہی طریقہ تھا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی غیر ملکی مہمان اپوزیشن سے ملتے تھے۔ ان کے مطابق یہ ایک ’’جمہوری روایت‘‘ ہے جس سے بھارت کی سیاسی وسعت اور ہمہ گیری ظاہر ہوتی ہے۔
راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ پچھلے چند برسوں میں حکومت نے اس روایت کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے روکنے یا غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب کوئی عالمی رہنما بھارت آتا ہے یا جب وہ خود بیرونِ ملک کسی دورے پر جاتے ہیں، تو بھارتی حکومت کی طرف سے ایسے مشورے یا ہدایتیں دی جاتی ہیں کہ اپوزیشن سے ملاقات نہ کی جائے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اپوزیشن کے وجود کو محدود دکھانے کی کوشش ہے بلکہ یہ بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک صرف حکومت سے نہیں بنتا، بلکہ اپوزیشن بھی بھارتی عوام کی آواز کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے مطابق،حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ صرف وہی بھارت کی نمائندہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی اسی ملک کے منتخب نمائندے ہیں۔
واضح رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن 4 دسمبر سے بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر رہیں گے، جس کے تناظر میں راہل گاندھی نے یہ بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کی سیاسی روایتیں برقرار رہیں اور عالمی رہنماؤں کو ملک کے مختلف سیاسی نقطۂ نظر سے براہِ راست آگاہ ہونے کا موقع ملے۔





