دُرگا پور میڈیکل کالج کی اڑیسہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کیس
دُرگا پور میڈیکل کالج کی اڑیسہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی، پولیس نے 20 دن میں چارج شیٹ جمع کرائی، سماعت جلد ہوگی۔
مغربی بنگال کے شہر دُرگا پور میں ایک نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کے ساتھ پیش آئے اجتماعی زیادتی کے معاملے میں پولیس نے صرف 20 دنوں کے اندر مکمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ متاثرہ لڑکی کا تعلق اڑیسہ سے بتایا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے دائر کیے گئے چارج شیٹ میں اس کے ایک ہم جماعت پر ریپ اور تین دیگر ملزموں پر اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ دو افراد پر لوٹ مار یعنی پیسے چھیننے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس کیس کے خصوصی سرکاری وکیل وِبھا ش چٹرجی نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام چھ ملزموں کے نام چارج شیٹ میں شامل ہیں اور ان پر بھارتی تعزیراتِ قانون کی مختلف دفعات کے تحت ریپ، اجتماعی ریپ اور لوٹ مار کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے مقدمے کی تیز رفتار سماعت کا حکم دیا ہے اور امکان ہے کہ کارروائی دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زیادتی ایک ہی شخص نے کی تھی، جب کہ دو دیگر افراد نے اس کی مدد کی، اسی وجہ سے معاملے میں گینگ ریپ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔یہ واقعہ 10 اکتوبر کی رات پیش آیا تھا، جب متاثرہ طالبہ اپنے ایک ہم جماعت کے ساتھ کالج کیمپس سے باہر نکلی۔ اسی دوران چند نوجوانوں نے انہیں گھیر لیا اور زیادتی کی۔ واقعے کے بعد پولیس نے پانچ نوجوانوں کے ساتھ اس کے ہم جماعت کو بھی گرفتار کیا۔تمام ملزمان اس وقت جیل میں عدالتی حراست میں ہیں اور انہیں جمعہ کے روز دُرگا پور کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔متاثرہ لڑکی نے 24 اکتوبر کو جیل میں منعقدہ شناختی پریڈ (ٹی آئی پی) میں شرکت کی، جہاں اس نے تمام ملزمان کی شناخت کر لی اور ان میں سے ایک کو مرکزی ملزم قرار دیا۔پولیس کے مطابق شناخت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی کو اڑیسہ میں اس کے گھر واپس بھیج دیا گیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ دُرگا پور بلایا جا سکتا ہے۔





