حکومت کی مداخلت سے پروازیں بحال، انڈیگو بحران میں نمایاں کمی
انڈیگو بحران کے بعد پروازیں بحال، 90 فیصد سامان پہنچا، حکومت نے انکوائری کا حکم دیا اور کرایوں کی حد مقرر کردی۔
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئر لائن انڈیگو کے حالیہ بحران کے بعد شہری ہوابازی کے شعبے میں حالات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔ شہری ہوابازی وزارت کے سیکریٹری سمیر کمار سنہا نے پیر کے روز کہا کہ صورتِ حال اب بڑی حد تک معمول پر آچکی ہے اور ایئر لائن کی پروازیں تقریباً اپنی عام روٹین کے مطابق چل رہی ہیں۔انہوں نے ایک گفتگو میں بتایا کہ انڈیگو نے آج تقریباً اٹھارہ سو پروازیں آپریٹ کیں، جو کہ روزانہ کی اوسط کے قریب ہیں۔ ان کے مطابق دیگر تمام ایئر لائنزجیسے اکا سا، ایئر انڈیا ایکسپریس، ایئر انڈیا اور اسپائس جیٹ بھی اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ پروازیں چلا رہی ہیں، جس سے مجموعی فضائی آپریشن میں استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
مسافروں کے سامان کی ترسیل کے حوالے سے سیکریٹری نے بتایا کہ تقریباً 90 فیصد سامان مسافروں تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ باقی سامان متعلقہ مسافروں کے گھروں کے پتے پر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر وہ سامان بھی اپنے مالکان تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔سمیر کمار سنہا کے مطابق انڈیگو کی جانب سے متاثرہ مسافروں کو کرایوں کی واپسی کا سلسلہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے، تاکہ مسافروں کو غیر ضروری مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بحران کی وجوہات جاننے کے لیے حکومت پہلے ہی ایک تفصیلی انکوائری کا حکم جاری کر چکی ہے۔ سیکریٹری نے بتایا کہ یہ رپورٹ تقریباً پندرہ دن کے اندر موصول ہوگی، جس کے بعد انتظامیہ اس کا جائزہ لے کر مزید ضروری اقدامات کرے گی۔ انڈیگو کے سینئر انتظامیہ کو بھی واقعے کی وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب گزشتہ بدھ کو انڈیگو کی بڑی تعداد میں پروازیں اچانک منسوخ ہو گئیں، جبکہ بہت سی پروازیں کئی کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں۔ صرف جمعے کے دن ہی ایک ہزار سے زائد فلائٹس آپریٹ نہیں ہو سکیں۔ اس صورتِ حال سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دیگر ایئر لائنز کے کرایے بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئے۔بحران بڑھنے پر حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے ہفتے کے روز فضائی کرایوں کی بالائی حد مقرر کی، جس کے بعد صورتحال میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔





