ہانگ کانگ رہائشی عمارتوں میں آگ، ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ
ہانگ کانگ کے وانگ فک کورٹ میں آگ لگنے سے 13 ہلاک، 28 زخمی، ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ہانگ کانگ کے ایک گنجان آباد رہائشی علاقے میں لگنے والی اچانک آگ نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک حادثے میں کم از کم 13 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 28 افراد شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ اب بھی متعدد افراد کے عمارتوں کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
آگ لگنے کے فوراً بعد ایمرجنسی سروسز نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ شہر کے مختلف محکموں سے 700 سے زائد آگ بجھانے والے اہلکار، ریسکیو ٹیمیں اور طبی عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔ فائر بریگیڈ نے بتایا کہ شعلوں نے کئی فلورز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے باعث آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مکینوں کو سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاکہ کسی اضافی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔آگ کے حوالے سے ایک پریس بریفنگ میں فائر سروسز کی افسر چو وِنگ ین نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے نو افراد کی موت جائے حادثہ پر ہی ہو گئی تھی، جبکہ باقی افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے ریسکیو اور طبی ٹیموں کو انتہائی چوکسی کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی چینلز پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بلند عمارتوں سے اٹھتے ہوئے گھنے دھوئیں کے بادل اور دور تک دکھائی دینے والی لپٹیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ لوگوں کی چیخ و پکار، بھاگم دوڑ اور فضا میں پھیلا ہوا دھواں شہر کی فضا کو سوگوار بنا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو شبہ ہے کہ کچھ مکین مرمت کے کام کے باعث عمارت کے اندر موجود تھے، جن تک رسائی اب بھی مشکل ہو رہی ہے۔
جس جگہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے وہ وانگ فُک کورٹ کہلاتا ہے ایک نیا رہائشی کمپلیکس جس میں 1984 فلیٹس ہیں اور تقریباً چار ہزار افراد یہاں رہائش پذیر ہیں۔ حادثے کے وقت عمارت میں مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جاری تھا، جس کے باعث کچھ داخلی راستے عارضی طور پر بند تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ریسکیو اہلکاروں کو اندر جانے میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہری انتظامیہ نے ہنگامی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کیسے بھڑکی اور مرمت کے دوران حفاظتی انتظامات مناسب تھے یا نہیں۔ ہانگ کانگ کی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد کا اعلان بھی کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔





