یورپی پارلیمنٹ کاسخت ردعمل،امریکی تجارتی معاہدہ عارضی طور پر معطل
گرین لینڈ تنازع پر یورپی پارلیمنٹ نے امریکی تجارتی معاہدہ معطل کر دیا، ٹرمپ کے فیصلوں سے یورپ امریکا کشیدگی میں اضافہ ۔
یورپی پارلیمنٹ نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے ایک اہم تجارتی معاہدے کی منظوری عارضی طور پر روک دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کے مطالبے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا، تاہم اب یورپی اداروں نے اس پر پیش رفت روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔اس فیصلے کا باضابطہ اعلان بدھ کے روز فرانس کے شہر اسٹرابورگ میں کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کر رہے تھے۔ یورپی پارلیمنٹ کے اس اقدام کو امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور تجارتی تناؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گرین لینڈ، ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور یورپی یونین کے کئی ممالک نے ٹرمپ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اس صورتحال کے بعد عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی گئی اور امریکا اور یورپ کے درمیان ممکنہ تجارتی جنگ کی باتیں ایک بار پھر سامنے آنے لگیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے خلاف یورپی جوابی اقدامات کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین بیرنڈ لانگ نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا سے متعلق دو اہم قانون سازی کے مسودوں پر کام روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ یورپ دباؤ اور دھمکیوں کی بنیاد پر تعاون کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔
لانگ نے مزید کہا کہ ان تجارتی منصوبوں پر اس وقت تک کام معطل رہے گا جب تک امریکا محاذ آرائی چھوڑ کر دوبارہ تعاون اور شراکت داری کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کھلے دل سے بات چیت پر یقین رکھتی ہے، لیکن اس کے لیے احترام اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ادھر یورپی فیصلے کے چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ وہ گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق ایک ابتدائی مسودے پر متفق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹو کے آٹھ رکن ممالک پر نئے ٹیرف لگانے کا ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کا یہ اقدام امریکا پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ جارحانہ بیانات اور اقدامات سے پیچھے ہٹے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا تجارتی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔





