مغربی بنگال میں انتخابی کشیدگی،ٹی ایم سی اور بی جے پی آمنے سامنے
بنگال انتخابات سے قبل ٹی ایم سی اور بی جے پی میں کشیدگی، دونوں جانب سے تشدد اور انتظامیہ پر الزامات عائد.
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کافی کشیدہ دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور مرکزی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان خاص طور پر قانون و انتظام کے معاملے پر سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ٹی ایم سی کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں کچھ افراد مذہبی نعرے لگاتے ہوئے توڑ پھوڑ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی جس “تبدیلی” کی بات کر رہی ہے، وہ دراصل ریاست میں بدامنی پھیلانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہوا، الیکشن کمیشن نے ریاستی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شروع کر دیں۔ ان کے مطابق چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکاتا کے پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر تک کو تبدیل کر دیا گیا۔ ابھیشیک بنرجی نے ان اقدامات کے وقت اور مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی مداخلت کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ اور مغربی بنگال کے شریک انچارج امت مالویہ نے بھی ایک ویڈیو شیئر کر کے ٹی ایم سی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رام نومی کے موقع پر مرشد آباد ضلع کے جنگی پور علاقے میں نکالے گئے جلوس کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا۔ ان کے مطابق یہ علاقہ مسلم اکثریتی ہے اور یہاں ہندو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
امت مالویہ نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں کئی سرحدی اضلاع کی صورت حال خراب ہوئی ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے، جب کہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ ایسے میں سیاسی بیان بازی اور الزامات نے انتخابی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے۔





